ملکی خودمختاری کا تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کا خطاب

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ملکی یا غیر ملکی کو اپنے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کسی پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر میرا ایمان صرف الفاظ تک محدود… انہوں نے کہا کہ یہ منفرد اعزاز ہے کہ بطور دوبار منتخب صدرمملکت پارلیمنٹ سے یہ میرا 9واں خطاب ہے، پارلیمنٹ سے ایسا ہر خطاب جمہوری نظام کے تسلسل اور ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں، اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے، جمہوریہ کی طاقت آئین، عوامی ثابت قدمی، پارلیمنٹ اور حکومت کی ذمہ داری، مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے، نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ہمیں اسی عزم کو آگے بڑھانا ہے، ملکی خودمختاری کا تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے شہریوں کی خوشحالی اور امن کیلئے ترقی اور استحکام کا عمل آگے بڑھانا ہے، آج ہم اُن بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں، قائدِاعظم نے ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا جو آئین اور قانون کی حکمرانی پر قائم ہو، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا، بے، نظیر بھٹو شہید نے قربانی اور مثالی قیادت سے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر میرا ایمان صرف الفاظ تک محدود نہیں، گزشتہ دور میں یکطرفہ طور پر صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے، تاریخی 18ویں ترمیم کے ذریعے صدر مملکت کا منصب وفاق کی وحدت کی علامت ہے۔ گزشتہ دس ماہ میں ہماری قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا، دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں پر ہماری افواج نے غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کا ثبوت دیا، ہماری بہادر افواج نے معرکۂ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی تذویراتی فتح میں بدل دیا، 26 فروری کی رات طالبان رجیم نے مغربی سرحد پر حملے کیے۔ سیاسی قیادت متحد اور قوم ثابت قدم رہی، بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے عسکری اور سفارتی محاذوں پر کامیاب رہے، عالمی برادری نے ہماری اصولی اور فیصلہ کن کارروائی کو تسلیم کیا، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی منصفانہ جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہوسکتا، پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 ہمیں اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کا حق دیتا ہے، سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے، افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کیلئے سفارت کاری کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران چھیڑی جانے والی جنگ کی شدید مذمت کی، خطے کو مزید بحران سے بچانے کیلئے امن، تحمل اور مذاکراتی حل پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکا میں اسٹریٹجک تعاون اور شراکت داری کی نئی راہیں کھلی ہیں، پاکستان اور چین کے تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچے ہیں۔ سی پیک 2 پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا، شی جن پنگ کا شکر گزار ہوں، مسئلہ فلسطین پر پاکستان اصولی موقف رکھتا ہے، 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت، سندھ طاس معاہدے کو التوا میں ڈالنے کے غیر قانونی بھارتی اقدامات آبی دہشتگردی ہیں، منتخب صدر کی حیثیت سے وفاق اور پارلیمنٹ کے اتحاد کی حفاظت کا پابند ہوں، بلوچستان کی محرومیوں پر خصوصی توجہ ناگزیر ہے۔ معاشی استحکام اور قومی سلامتی لازم و ملزوم ہیں، ادارہ جاتی اصلاحات انتہائی ضروری ہیں، ٹیکس نظام اور اخراجات میں شفافیت اعتماد کی بنیاد ہے، ٹیکنالوجی اور جدت عالمی معیشت کو نئی شکل دے رہی ہے۔ پاکستان کلین انرجی کے شعبے میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، سماجی تحفظ کے فریم ورک بی آئی ایس پی کے ذریعے پسماندہ طبقوں کو بااختیار بنانا ہے، سلامتی، معیشت اور آئینی طرز حکمرانی ایک دوسرے سے منسلک ہیں، آئیں آزمائش کے وقت میں اتحاد برقرار رکھیں، ہمیں یقینی بنانا ہے کہ معاشی فوائد عام آدمی کو پہنچیں۔ اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لیے مختلف ممالک کے سفیر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے، وزیراعظم شہباز شریف بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے، جوائنٹ سیشن، مختلف ممالک کے سفیروں کی بڑی تعداد ایوان میں مہمانوں کی گیلری میں موجود ہیں۔ مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں، پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر بھی پولیس کمانڈوز تعینات، پارلیمنٹ ہاؤس کو آنے والے راستوں پر چیکنگ انتہائی سخت کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی اور سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان مہمانوں کی گیلری میں موجود ہیں۔ اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے احتجاج شروع کردیا، ایوان میں گو زرداری گو کے نعرے لگانا شروع کردیے.