مودی کا دورۂ اسرائیل متنازع، عالمی میڈیا اور بھارتی اپوزیشن کی شدید تنقید

ایران پر حملوں سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے نے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں اور بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے اس دورے کے وقت اور اس کے ممکنہ سیاسی مقاصد پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مودی کے دورۂ اسرائیل اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں نئی سفارتی بحث کو جنم دیا۔ عالمی میڈیا کی تنقید متعدد عالمی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ ایران پر ممکنہ حملے سے قبل مودی کے دورے کی ٹائمنگ نے بھارت کو سفارتی دباؤ کا سامنا کرایا۔ رپورٹس کے مطابق اس دورے نے بھارت کی روایتی غیر جانبدار خارجہ پالیسی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے۔ برطانوی میڈیا اور دیگر عالمی اداروں نے بھی یہ سوال اٹھایا کہ آیا اس دورے کا مقصد خطے میں سیاسی حمایت یا اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ تھا۔ بھارتی اپوزیشن کے الزامات بھارت کی اپوزیشن جماعتوں، جن میں کانگریس اور دیگر سیاسی گروپس شامل ہیں، نے مودی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ بھارت کی روایتی خارجہ پالیسی سے انحراف کی علامت ہے۔ بعض رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ کیا مودی کو ایران پر ممکنہ حملوں کے بارے میں پہلے سے علم تھا اور کیا یہ دورہ اسی تناظر میں کیا گیا۔ معاشی مفادات کا پہلو سیاسی مبصرین کے مطابق اس دورے کے پیچھے معاشی مفادات بھی زیر بحث ہیں۔ بھارتی صنعتکار گوتم اڈانی کے گروپ کی اسرائیل کے حیفہ بندرگاہ اور ایران کی چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری کو بھی اس بحث کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے بھارت نے خطے میں اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کیلئے سفارتی روابط کو ترجیح دی ہو۔ بڑھتی ہوئی سیاسی بحث ان تمام عوامل کے باعث بھارت کے اندر اور عالمی سطح پر مودی حکومت کی پالیسیوں پر بحث میں شدت آ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ کشیدگی کے تناظر میں ایسے سفارتی اقدامات خطے کی سیاست اور عالمی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔