نیم کے درخت کے وہ فوائد جو آپ نہیں جانتے

ماہرین اور روایتی معلومات کے مطابق نِیم کا درخت قدرت کی جانب سے ایک اہم تحفہ تصور کیا جاتا ہے، جو نہ صرف ماحول بلکہ انسانی اور حیوانی زندگی کے لیے بھی متعدد فوائد کا حامل ہے۔ ماضی میں دیہی علاقوں میں نِیم کے درخت تقریباً ہر گھر کا حصہ ہوتے تھے، جہاں لوگ اس کی گھنی اور ٹھنڈی چھاؤں کے ساتھ ساتھ اس کے دیگر فوائد سے بھی آگاہ تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نِیم کا درخت ماحول میں موجود مضر اور زہریلے عناصر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور فضا کو صاف رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے، اس کے پتے گرنے کے بعد بھی ضائع نہیں ہوتے بلکہ مختلف استعمالات کے باعث قیمتی سمجھے جاتے ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق نِیم پاؤڈر کی قیمت بارہ سے چودہ سو روپے فی کلوگرام تک بتائی جاتی ہے، جو اس کی افادیت کو ظاہر کرتی ہے۔ روایتی طریقہ علاج سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ نِیم کے پتوں میں جراثیم کش اور کیڑے مار خصوصیات پائی جاتی ہیں، جنہیں پھوڑے، پھنسیوں اور خارش جیسے مسائل میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح نِیم کی مسواک کو دانتوں کی صفائی کے لیے مؤثر قرار دیا جاتا ہے اور بعض حلقے اسے مہنگے ٹوتھ پیسٹ کا متبادل بھی کہتے ہیں۔ بالوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ نِیم کے پتوں کو سرسوں کے تیل میں پکا کر سر پر لگانے سے جوؤں کے خاتمے اور خشکی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ اس تیل کو جسم پر معمولی الرجی اور خارش کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح نِیم کے پتوں کو ابال کر اس پانی سے زخم دھونے کو بھی فائدہ مند قرار دیا جاتا ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق نِیم کو قدرتی کیڑے مار دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، روایتی طور پر اناج کو کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے نِیم کے پتوں کو کپڑے میں باندھ کر رکھا جاتا تھا۔ جس سے سُسری اور دیگر کیڑوں سے بچاؤ ممکن ہوتا تھا، اسی طرح نِیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر یا پیس کر تیار کردہ محلول کو پودوں پر سپرے کرنے سے نقصان دہ کیڑوں کے خاتمے میں مدد ملتی ہے، اور اسے کیمیائی سپرے کا متبادل بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نِیم کے فوائد صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ جانوروں کے لیے بھی اہم ہیں۔ نِیم کے پتوں کو مرغیوں اور دیگر جانوروں کی رہائش گاہ میں بچھانے سے نہ صرف گرمائش حاصل ہوتی ہے بلکہ جلدی بیماریوں، جوؤں اور چیچڑوں سے بچاؤ میں بھی مدد ملتی ہے۔ اسی طرح جانوروں کو نِیم کے پتوں کے اُبالے ہوئے پانی سے نہلانا بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ گھریلو سطح پر بھی نِیم کے متعدد استعمالات بیان کیے جاتے ہیں۔ پرانی کتابوں میں نِیم کے پتے رکھنے سے دیمک سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے، جبکہ سردیوں میں گرنے والے پتوں کو ضائع کرنے کے بجائے خشک کر کے سفوف بنا کر محفوظ کیا جا سکتا ہے، جسے جراثیم کش مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نِیم کے فوائد کے باوجود اسے ہر بیماری کا مکمل علاج سمجھنا درست نہیں، اور کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ سائنسی اور طبی رہنمائی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نِیم جیسے مفید درختوں کی کاشت کو فروغ دیا جائے تاکہ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے اور اس کے قدرتی فوائد سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جا سکے۔

کیٹاگری میں : صحت