ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے حالات میں قوم کو متحد رہنے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ یہی اتحاد دشمن کو جھکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ایرانی عوام کے درمیان اتحاد مزید مضبوط ہوگا اور دشمن کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔… قوم کے نام پیغام میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلم ممالک کے درمیان بھی اتحاد اور بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے پاکستان اور افغانستان سے آپس میں تعلقات بہتر بنانے کی اپیل کی۔ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے پاکستان کو ایک عظیم ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے مشرقی ہمسایہ ممالک کے بہت قریب ہے اور مختلف مواقع پر پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا کہ ترکیہ اور عمان میں ہونے والے حملوں میں ایرانی افواج یا مزاحمتی محاذ کا کوئی کردار نہیں بلکہ یہ دشمن کی جانب سے تفرقہ پیدا کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے ترکیہ اور عمان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو گمان تھا کہ قیادت کی شہادت کے بعد عوام میدان چھوڑ دیں گے یا چند دنوں میں اسلامی نظام کا خاتمہ ہو جائے گا، مگر ایرانی قوم نے روزہ اور جہاد کو ساتھ ساتھ جاری رکھتے ہوئے ان اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔ سپریم لیڈر نے کہا کہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب دشمن عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہو کر مایوس ہو گیا، جبکہ ایران کا محاذ دشمن کے اندازوں سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوا ہے۔انہوں نے آنے والے سال کو “مزاحمتی معیشت” کا سال قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران ہر محاذ پر استقامت کے ساتھ آگے بڑھے گا اور دشمن کے تمام عزائم کو ناکام بنائے گا۔






