امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے غیر رسمی طور پر مجھے ملک کا اگلا سپریم لیڈر بنانے کی پیشکش کی، تاہم میں نے اسے مسترد کر دیا۔ ریپبلکن فنڈ ریزر سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مبینہ مذاکرات کے دعوے کو دہرایا، حالانکہ ایران پہلے ہی کسی بھی قسم کی بات چیت کی سختی سے تردید کر چکا ہے۔ تقریب سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی قیادت نے مجھ سے سپریم لیڈر بنانے کی خواہش ظاہر کی، مگر میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کا سربراہ بننے سے زیادہ میں ایران کا سربراہ بننا ناپسند کرتا ہوں، وہ کہتے ہیں ہم آپ کو اگلا سپریم لیڈر بنانا چاہتے ہیں، میں نے کہا نہیں شکریہ، مجھے یہ نہیں چاہیے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئے، جبکہ بعض رپورٹس میں ان کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اس موقع پر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی کامیابی کا دعویٰ بھی دہرایا، ان کا کہنا تھا کہ پسِ پردہ مذاکرات جاری ہیں اور ایران جنگ بندی کا خواہاں ہے، مگر اپنے عوام کے خوف کے باعث کھل کر بات نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بہت بڑی کامیابی حاصل کر رہے ہیں، جیسی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، ایران مذاکرات کر رہا ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے، مگر انہیں اپنے ہی لوگوں سے خطرہ ہے اور ہم سے بھی ہے۔






