برطانیہ(میری خبر) بارہ سالہ بچی کے اغوا اور ریپ کے کیس میں افغان پناہ گزین احمد ملاخیل کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔
عدالت نے اسے پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے جس میں ایک سال کی اضافی سزا بھی شامل ہے۔
احمد ملاخیل نے جولائی دو ہزار پچیس میں نیونیٹن واروکشائر میں ایک پارک میں تنہا کھیلتی بارہ سالہ بچی کو دیکھ کر اسے اغوا کیا۔
وہ اسے ایک پرسکون گلی میں لے گیا جہاں اس نے اس پر ریپ کیا جنسی زیادتی کی اور خود ویڈیو بھی بنائی۔
بچی نے عدالت میں بیان دیا کہ حملے کے دوران مجرم ہنستا رہا تھا۔
ملاخیل واردات سے صرف چار ماہ قبل مارچ دو ہزار پچیس میں فرانس سے چھوٹی کشتی کے ذریعے غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچا تھا اور سیاسی پناہ کا درخواست گزار تھا۔
واروک کراؤن کورٹ میں جیوری نے ملاخیل کو بچی کے اغوا ریپ دو الزامات جنسی زیادتی اور indecent ویڈیو بنانے کے جرم میں مجرم ٹھہرایا۔
اس نے ایک ریپ کا الزام پہلے ہی قبول کر لیا تھا۔
جج نے کہا کہ متاثرہ بچی کو شدید نفسیاتی نقصان پہنچا ہے اور وہ اب بھی ٹراما کا شکار ہے۔
سزا کے ساتھ ہی مجرم پر بچی سے رابطہ نہ کرنے کا پابندی کا حکم بھی جاری کیا گیا اور یہ سزا اسے خود بخود ڈیپورٹیشن کے قابل بنا دے گی۔
دوسرے ملزم محمد کبیر کو بچی کا گلہ گھونٹنے اغوا کی کوشش اور جنسی جرم کی نیت سے فعل کے الزامات سے بری کر دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد نیونیٹن میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں مقامی کمیونٹی نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔
احمد ملاخیل نے دفاع میں دعویٰ کیا کہ وہ بچی کو انیس سال کی سمجھتا تھا لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔
پولیس نے اسے انتہائی ہولناک جنسی جرائم قرار دیا۔
کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد سزا کا اعلان مارچ دو ہزار چھبیس میں کیا گیا۔
یہ واقعہ برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے پناہ گزینوں سے متعلق بحث کو بھی تیز کر گیا ہے۔






