دنیا کا سب سے چھوٹا کیو آر کوڈ بنا لیا گیا

سائنسدانوں نے ایک بیکٹیریم سے بھی چھوٹا کیو آر کوڈ تیار کر لیا ہے، جو مائیکرو اسکیل ڈیٹا اسٹوریج ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ بیکٹیریم سے مراد واحد خوردبینی خلیے یا جرثومے کا سائز ہے، سائنسدانوں نے یہ موازنہ اس لیے کیا ہے تاکہ وہ اس نئے کیو آر کوڈ کی بے انتہا چھوٹی جسامت کو واضح کر سکیں۔ عام طور پر ایک اوسط بیکٹیریم کی لمبائی تقریباً 1 سے 5 مائیکرو میٹر ہوتی ہے، انسانی بال کی موٹائی اس سے تقریباً 50 سے 100 گنا زیادہ ہوتی ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ کیو آر کوڈ بیکٹیریم سے بھی چھوٹا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اتنا باریک ہے کہ اسے انسانی آنکھ سے دیکھنا ناممکن ہے۔ ویانا یونیورسٹی کے محققین کی ٹیم نے ایک خاص قسم کے سیرامک ​​مواد پر کندہ کرنے کے لیے چارج شدہ ذرات کا استعمال کرتے ہوئے اس چھوٹے ’کیو آر‘ کوڈ کو بنایا ہے۔ یہ چھوٹا ’کیو آر‘ کوڈ کئی سال تک ڈیٹا کو ذخیرہ کرنے اور محفوظ کرنے کے قابل ہے۔ صرف 1.98 مربع مائیکرو میٹر کے اس ’کیو آر‘ کوڈ کو گنیز ورلڈ ریکارڈ نے بھی دنیا کا سب سے چھوٹا کیو آر کوڈ قرار دے دیا ہے۔ یہ ’کیو آر‘ کوڈ اتنا چھوٹا ہے کہ اسے عام روشنی میں نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ اسے دیکھنے کے لیے الیکٹران مائیکرو اسکوپ کی ضرورت ہو گی۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نینو ٹیکنالوجی میں ڈیٹا اسٹوریج کے جدید حل نکالنے اور ایپلی کیشنز بنانے کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔