برف کے پانی پر تیرنے کی سائنسی وجہ سامنے آگئی

سائنس دانوں نے ممکنہ طور پر برف کے پانی پر تیرنے اورپانی 39 ڈگری فارن ہائیٹ (4 ڈگری سیلسیس) سے نیچے ٹھنڈا ہونے پر پھیلنے کے دیرینہ معمے کو حل کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت سپر کولڈ پانی میں ایک پوشیدہ ’لیکویئڈ-لیکویئڈ کریٹیکل پوائنٹ‘ کے شواہد دریافت ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ سویڈن کی اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے محققین نے ایکس رے لیزرز کی مدد سے اس کریٹیکل پوائنٹ کی موجودگی کا تعین کیا، جو منفی 81 ڈگری فارن ہائیٹ (منفی 63 ڈگری سیلسیس) اور تقریباً 14 ہزار 500 پاؤنڈ فی مربع انچ (یعنی 1000 ایٹموسفیئر) دباؤ پر پایا گیا۔ یہ دریافت پانی کے عجیب و غریب رویے اور اس کی غیر معمولی خصوصیات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ برف کے ٹکڑے کیوں تیرتے ہیں اور پانی کا درجہ حرارت 39 ڈگری فارن ہائیٹ (4 ڈگری سیلسیس) سے نیچے آنے پر وہ کیوں پھیلنے لگتا ہے۔ اس حوالے سے اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات میں کیمیائی طبیعیات کے پروفیسر ڈاکٹر اینڈرز نیلسن نے کہاکہخاص بات یہ تھی کہ ہم برف جمنے سے پہلے ناقابلِ تصور رفتار سے ایکس رے لینے میں کامیاب ہوئے، جس سے ہم نے دیکھا کہ لیکویڈ-لیکویڈ منتقلی کیسے ختم ہوتی ہے اور ایک نیا کریٹیکل اسٹیٹ کیسے ابھرتا ہے۔