آسٹریا نے امریکا کو ایران جنگ کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا

یورپ کے ملک آسٹڑیا نے بھی امریکہ کو ایران جنگ کے لئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے منع کر دیا۔ اس سے پہلے سپین اور کچھ دوسرے ملک ایران جنگ میں امریکہ سے تعاون کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے پولینڈ نے امریکہ کو اپنے ہاں موجود میزائل ڈیفینس سسٹم ایران جنگ کے لئے استعمال کرنے کی غرض سے منتقل کرنے سے منع کر دیا۔ آسٹریا کو ایران پر حملوں کیلئے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے کے لئے واشنگٹن کی جانب سے کئی درخواستیں موصول ہوئی تھیں، آسٹریا کی وزارت دفاع کے ترجمان نے تصدیق کردی کہ آسٹریا نے امریکہ کی درخواست رد کر دی ہے۔ آسٹریا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا غیرجانب داری کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ آسٹریا کے سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ آسٹریا کی وزارت دفاع کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے کئی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ہر درخواست کا الگ الگ جائزہ لیا جائے گا اور یہ عمل آسٹریا کی وزارت خارجہ کے ساتھ مشاورت سے کیا جائے گا تاہم آسٹریا طویل عرصے سے فوجی غیر جانب داری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امریکی پروازوں پر مکمل پابندی عائد نہیں کی بلکہ ہر درخواست کو متعلقہ کیس کی بنیاد پر دیکھا جا رہا ہے۔ آسٹریا کی اپوزیشن جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی(ایس پی او)نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے موجودہ مؤقف قائم رہے۔ ایس پی او کے سربراہ سوین ہرگووچ نے کہا کہ وزیر دفاع کلاڈیا ٹینر کو چاہیے کہ وہ خلیج کی جانب امریکا کی ایک بھی مزید فوجی پرواز کی منظوری نہ دے اور نہ ہی وہ کسی ٹرانسپورٹ پرواز یا دیگر لاجسٹک معاونت کی اجازت دے، ایسے ہی جیسے اسپین، فرانس، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کر رہے ہیں کیونکہ یہ جنگ آسٹریا کے معاشی مفادات، پورے یورپ اور عالمی امن کو نقصان پہنچا رہی ہے۔