آج دنیا ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ایران جنگ کی وجہ سے تیل بہت مہنگا ہو گیا ہے، جس کا اثر ٹرانسپورٹ، کھانے پینے کی اشیاء اور روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے، اسی لیے پوری دنیا پریشان ہے۔ پاکستان نے اس مشکل وقت میں ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے۔ وزیرِ اعظم ?? شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ذمہ دارانہ سفارتکاری کی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور حالات مزید خراب نہ ہوں۔ ہمارے اردگرد کے ممالک جیسے بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں پٹرولیم مصنوعات کی صورتحال کافی خراب ہے۔ وہاں راشننگ اور کوٹہ سسٹم نافذ ہے، لوگ لمبی لائنوں میں کھڑے ہیں، گیس سلنڈر کی قلت ہے اور کئی جگہوں پر جھگڑے بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ پاکستان میں صورتحال بہتر ہے۔ تیل دستیاب ہے اور حکومت نے قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ عام آدمی پر بوجھ کم ہو۔ وزیرِ اعظم کی قیادت میں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے تقریباً 129 ارب روپے خود برداشت کیے، تاکہ عالمی قیمتوں اور مقامی قیمتوں کے فرق کو پورا کیا جا سکے اور عوام کو فوری ریلیف ملے۔ مزید یہ کہ تقریباً 100 ارب روپے ترقیاتی بجٹ سے نکال کر عوامی سہولت کے لیے استعمال کیے گئے تاکہ حالات میں فوری بہتری لائی جا سکے۔ حکومت نے بڑے پیمانے پر کفایت شعاری اقدامات کیے ہیں، جن میں سرکاری اخراجات میں کمی، وزراء کی تنخواہوں سے دستبرداری، ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں میں کٹوتی، غیر ضروری دوروں اور تقریبات کا خاتمہ، ورک فرام ہوم، اور لگژری گاڑیوں و مہنگے فیول کے استعمال میں کمی شامل ہے۔ تاہم یہ ریلیف مستقل نہیں ہے، کیونکہ پاکستان تیل درآمد کرتا ہے اور اسے ڈالر دے کر خریدتا ہے۔ مہنگا تیل خریدنے سے ہمارے ڈالر (زرمبادلہ) کم ہوتے ہیں، جو ملک کے خزانے کا حصہ ہیں۔ اگر یہ کم ہوں تو مہنگائی بڑھتی ہے اور معیشت پر دباؤ آتا ہے۔ اس صورتحال میں ہمیں بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کار پولنگ کریں، غیر ضروری سفر کم کریں، بجلی اور پیٹرول کا ضیاع روکیں اور سادہ زندگی اپنائیں۔ پاکستانی قوم نے ہمیشہ مشکل وقت میں اتحاد دکھایا ہے۔ آج بھی ہمیں ذمہ داری، سمجھداری اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہے تاکہ ہم اس چیلنج سے مضبوط ہو کر نکل سکیں۔






