آٹھ سو سال پرانی تکنیک سے اپنا بلڈ پریشر قابو کریں

ایک ایسی قدیم چینی مشق جو آٹھ سو سال پرانی ہونے کے باوجود آج کے جدید دور میں ہائی بلڈ پریشرجیسے سنگین مسئلے کا ایک سادہ اور قدرتی حل پیش کرتی ہے۔ اس ورزش کو ”باڈوانجن“ (Baduanjin) کہا جاتا ہے، جو اپنی سہولت اور حیرت انگیز طبی فوائد کی وجہ سے دنیا بھر کے ماہرینِ صحت کی توجہ کا مرکز… باڈوانجن ایک روایتی چینی ورزش ہے جو آٹھ مخصوص حرکات پر مشتمل ہے۔ اس ورزش کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جسمانی لچک، گہرے سانس لینے کی مشقیں اور ذہنی توجہ کا ایک خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہ دیگر ورزشوں کے مقابلے میں انتہائی دھیمی رفتار سے کی جاتی ہے، جس میں کسی قسم کے مہنگے سامان یا جم جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ اسے گھر کے کسی بھی کونے میں صرف 10 سے 15 منٹ دے کر آسانی سے انجام دے سکتے ہیں۔ جدید طبی تحقیق اور اس کے نتائج جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی ایک انتہائی اہم اور جدید طبی تحقیق ان مشقوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ دنیا کے معتبر ترین طبی رسائل میں سے ایک ہے، جو خاص طور پر دل کی صحت اور امراضِ قلب سے متعلق جدید ترین تحقیقات شائع کرتا ہے۔ اس حالیہ جامع کلینیکل ٹرائل میں 40 سال سے زائد عمر کے ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کا بلڈ پریشر خطرے کی حد کے قریب تھا۔ تحقیق کے نتائج نے طبی ماہرین کو حیران کر دیا کیونکہ باڈوانجن کرنے والے افراد کے بلڈ پریشر میں ویسی ہی کمی دیکھی گئی جو عام طور پر تیز چہل قدمی یا بعض صورتوں میں ہائی بلڈ پریشر کی ابتدائی ادویات کے استعمال سے حاصل ہوتی ہے۔ تین ماہ سے ایک سال تک اس مشق کو جاری رکھنے والے افراد کے بلڈ پریشر کے اعداد و شمار میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ یہ ورزش جسم پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ باڈوانجن کی افادیت اس کے کثیر الجہتی اثرات میں چھپی ہے۔ جب انسان دھیمی حرکات کے ساتھ اپنے سانس کو قابو میں رکھتا ہے، تو اس سے جسم میں خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور اسٹریس پیدا کرنے والے ہارمونز کی سطح گر جاتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف دل کے پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے بلکہ اعصابی نظام کو بھی سکون فراہم کرتا ہے، جو بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اکثر لوگ سخت ورزشیں شروع تو کر دیتے ہیں لیکن وقت کی کمی یا تھکن کی وجہ سے انہیں برقرار نہیں رکھ پاتے۔ باڈوانجن کی سب سے بڑی خوبی اس کا سادہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اسے طویل عرصے تک اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے رکھتے ہیں۔ یہ ورزش خاص طور پر ان عمر رسیدہ افراد یا مصروف لوگوں کے لیے بہترین ہے جو جم کی بھاری ورزشیں نہیں کر سکتے۔ اسے سیکھنا انتہائی آسان ہے اور ایک بار سیکھ لینے کے بعد اسے کسی نگرانی کے بغیر بھی گھر پر کیا جا سکتا ہے۔ باڈوانجن کی بنیاد ان آٹھ مخصوص اور متوازن حرکات پر ہے جو انسانی جسم، سانس اور ذہن کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہیں۔ اس قدیم چینی ورزش کا آغاز بالکل سیدھا کھڑا ہو کر کیا جاتا ہے، جس میں دونوں پاؤں کے درمیان کندھوں جتنا فاصلہ رکھنا ضروری ہے تاکہ جسمانی توازن برقرار رہے۔ اس مشق کی اصل روح ان آٹھ موومنٹس میں پوشیدہ ہے جنہیں انتہائی دھیمی رفتار اور نرمی کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے، جس میں کسی بھی قسم کی جلد بازی یا جسمانی جھٹکے سے مکمل گریز کیا جاتا ہے۔ اس ورزش کا سب سے اہم اور فکری پہلو سانس کی ہم آہنگی ہے، جہاں ہر جسمانی حرکت کو ڈیپ بریتھنگ یعنی گہرے سانسوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر بناتا ہے بلکہ اعصابی نظام کو بھی سکون فراہم کرتا ہے۔ مشق کے دوران تمام تر توجہ (مینٹل فوکَس) توازن اور جسم کو ڈھیلا چھوڑنے پر مرکوز رکھی جاتی ہے، جو ذہنی تناؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر روزانہ کسی پرسکون ماحول میں محض 10 سے 15 منٹ اس ترتیب پر عمل کیا جائے، تو یہ سادہ سی عادت ہائی بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر قابو کرنے کا ایک مستقل اور پائیدار ذریعہ بن سکتی ہے۔ گھر پر آغاز کرنے کا طریقہ اس قدیم مشق کو شروع کرنے کے لیے کسی خاص تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ سیدھے کھڑے ہو کر، اپنے پاؤں کے درمیان کندھوں جتنا فاصلہ رکھ کر دھیمی اور نرم حرکات کا آغاز کر سکتے ہیں۔ ہر حرکت کو گہرے اور متوازن سانس کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے تاکہ جسم اور ذہن ایک ہی سمت میں کام کریں۔ روزانہ صرف 10 سے 15 منٹ کا پرسکون ماحول میں کیا گیا یہ عمل آپ کی دل کی صحت کو بہتر بنانے میں ادویات کا ایک بہترین معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت