مصنوعی ذہانت کے میدان میں کام کرنے والے معروف ادارے ’اینتھروپک‘ نے اپنا اب تک کا سب سے طاقتور اور جدید ماڈل کلاڈ مائتھوس پری ویو متعارف کروا دیا ہے۔ یہ نیا ماڈل اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے خبروں کی زینت بنا ہوا ہے کیونکہ یہ سافٹ ویئر ہیک کرنے اور ان میں موجود خامیاں تلاش کرنے میں… کمپنی کے مطابق یہ ماڈل ان کے پچھلے تمام ماڈلز اور مارکیٹ میں موجود دیگر حریفوں کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی حیران کن طاقت کو دیکھتے ہوئے اینتھروپک نے فی الحال اسے عام عوام کے لیے جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ اگر یہ ماڈل غلط ہاتھوں میں لگ گیا تو سائبر سیکیورٹی کے لیے بڑے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے بجائے کمپنی نے ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ کے نام سے ایک خصوصی پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت ایپل، گوگل، مائیکرو سافٹ اور ایمیزون جیسی چالیس سے زائد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو یہ ماڈل فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے نظام میں موجود کمزوریوں کو دور کر سکیں۔ کلاڈ مائتھوس کی سب سے بڑی خوبی اس کی کوڈنگ اور سوچ بچار کرنے کی صلاحیت ہے جس کی مدد سے اس نے انٹرنیٹ براؤزرز اور آپریٹنگ سسٹمز میں ایسی ہزاروں خامیاں تلاش کی ہیں جنہیں ماہرین برسوں سے نہیں دیکھ پائے تھے۔ اس ماڈل نے ایک ایسی پرانی خامی کا بھی پتہ لگایا ہے جو گزشتہ 27 سال سے ایک محفوظ سمجھے جانے والے نظام میں موجود تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی خامیاں کسی بھی حملہ آور کو پورے کمپیوٹر کا کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈئی کا کہنا ہے کہ اتنی طاقتور ٹیکنالوجی کے خطرات بہت واضح ہیں لیکن اگر اس کا درست استعمال کیا جائے تو ہم انٹرنیٹ کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔ کمپنی نے اس مقصد کے لیے سو ملین ڈالر کے کریڈٹس بھی مختص کیے ہیں تاکہ شراکت دار کمپنیاں اس ماڈل کو استعمال کر کے اپنے سافٹ ویئرز کو بہتر بنا سکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ماڈل کو خاص طور پر ہیکنگ کے لیے نہیں بنایا گیا تھا بلکہ یہ اس کی عمومی ذہانت کا ایک نتیجہ ہے۔ اینتھروپک اب امریکی حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے طاقتور ماڈلز کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے حفاظتی اصول وضع کیے جا سکیں۔ اینتھروپک کا ماننا ہے کہ کلاڈ مائتھوس محض ایک آغاز ہے اور یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اب کس حد تک طاقتور اور جدید ہو چکے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ سافٹ ویئر اور انٹرنیٹ کے نظام میں موجود ان خامیوں کو ابھی دور کر لیا جائے، اس سے پہلے کہ اس طرح کے انتہائی ذہین ماڈلز ہر خاص و عام کی پہنچ میں ہوں اور ان کا غلط استعمال شروع ہو جائے۔ اسی سنگینی کو بھانپتے ہوئے کمپنی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک اہم پیغام جاری کیا گیا، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، وہ وقت دور نہیں جب اس قدر طاقتور اور باصلاحیت ماڈلز عام دستیاب ہوں گے۔ لہٰذا، دنیا کو اس ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات میں تاخیر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہ بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کی ڈیجیٹل حفاظت کا انحصار ان فیصلوں پر ہے جو ہم آج کر رہے ہیں۔ کلاڈ مائتھوس جیسے طاقتور اے آئی کے ماڈلزاس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ جہاں مشینیں انسانوں کے لیے پیچیدہ مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، وہیں ان کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے خطرات بھی موجود ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ کیا ہم اسے تباہی اور ہیکنگ کے لیے استعمال کریں گے یا پھر ایک محفوظ اور بہتر دنیا بنانے کے لیے؟ اینتھروپک کا پروجیکٹ گلاس ونگ اس بات کی امید دلاتا ہے کہ اگر ہم مل کر کام کریں اور ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سے استعمال کریں، تو ہم مستقبل میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے فوائد کو سب کے لیے عام کر سکتے ہیں۔






