نیند کی کمی یا زیادتی، دماغی مسائل کا سبب بن سکتی ہے، نئی تحقیق

اچھے طرز زندگی جیسے صحت بخش غذاؤں کے استعمال، تمباکو نوشی سے گریز، جسمانی سرگرمیوں اور مناسب نیند سے ہر فرد متعدد دائمی امراض سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ان میں سے ایک مرض ڈیمینشیا کا ہے جس سے دماغی صحت تنزلی کا شکار ہوتی ہے اور مریض کی سوچنے اور یادداشت جیسی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب دریافت ہوا کہ نیند اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جرنل پلوس ون میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بہت زیادہ یا بہت کم نیند دونوں سے ڈیمینشیا سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اس تحقیق میں 69 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جن میں شامل افراد کی اوسط عمر 35 سال تھی۔ ان تحقیقی رپورٹس میں سے 49 میں لوگوں کی جسمانی سرگرمیوں، 17 میں نیند کے دوران اور 3 میں بیٹھ کر وقت گزارنے جیسے پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ تحقیق میں دریافت ہوا کہ جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے سے ڈیمینشیا سے متاثر ہونے کا خطرہ اوسطاً 25 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔ محققین نے بتایا کہ جسمانی سرگرمیاں دماغی صحت کو معمول پر رکھنے والے چند اہم ترین عناصر میں سے ایک ہے۔ مگر تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ہر رات 7 گھنٹے سے کم نیند سے ڈیمنشیا سے متاثر ہونے کا خطرہ 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح ہر رات 8 گھنٹے سے زائد نیند سے یہ خطرہ 28 فیصد تک بڑھتا ہے۔ محققین کے مطابق نتائج بہت اہم ہیں کیونکہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کم یا زیادہ نیند دونوں سے دماغی تنزلی کا خطرہ بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند کے تسلسل کو برقرار رکھنا دماغی صحت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ روزانہ 8 گھنٹے سے زائد وقت بیٹھ کر گزارنے والے افراد میں ڈیمینشیا سے متاثر ہونے کا خطرہ 27 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت