آج کل کی جدید اور تن آساں زندگی میں گھٹنوں کا درد ایک عام مسئلہ بن چکا ہے جو نہ صرف بزرگوں بلکہ نوجوانوں کو بھی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو مستقبل میں گھٹنوں سے متعلق بیماریوں اور تکالیف کے خطرے کو کافی حد تک کم… گھٹنے ہمارے جسم کا سارا وزن اٹھاتے ہیں، روزمرہ کی سرگرمیاں جیسے چلنا، سیڑھیاں چڑھنا، ورزش کرنا یا کھڑے ہونا ان سب کا انحصار گھٹنوں پر ہے۔ اس لیے ان کی بروقت دیکھ بھال مستقبل میں کسی بڑی معذوری یا تکلیف سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ویسے تو گھٹنوں کی تکالیف کی کئی وجوہات ہیں مگر ان میں سب سے عام وجہ ہماری روزمرہ کی طرززندگی ہے۔ جسمانی سرگرمیوں میں کمی، وزن میں اضافہ اور کھیلوں کے دوران لگنے والی چوٹیں گھٹنوں کے مسائل میں اضافہ کررہی ہیں۔ خوش قسمتی سے گھٹنوں کی حفاظت کے لیے ہمیشہ مشکل یا مہنگے طبی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چند سادہ اور مستقل عادات اپنا کر جوڑوں کو مضبوط رکھا جا سکتا ہے، ان پر پڑنے والے دباؤ اور گھساؤ کو کم کیا جا سکتا ہے اور لمبے عرصے تک آسانی سے چلنے پھرنے کی صلاحیت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ جوڑوں کی مضبوطی کے لیے احتیاطی تدابیر ماہرین کے مطابق اگر طرز زندگی میں تھوڑی سی تبدیلی کر دی جائے تو اگلے دس سالوں بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصے تک اپنے گھٹنوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ وزن پر قابو پانا اضافی وزن گھٹنوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی وزن میں محض ایک کلو کا اضافہ چلنے یا سیڑھیاں چڑھنے کے دوران گھٹنوں پر 2 سے 3 گنا زیادہ دباؤ ڈالتا ہے۔ وزن متوازن رکھ کر ہم کارٹلیج کو گھسنے سے بچا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں چاہیے کہ متوازن غذا اور ورزش کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔ پٹھوں کی مضبوطی پٹھے گھٹنوں کے محافظ ہیں۔ گھٹنے کے گرد موجود پٹھے انہیں سہارا دیتے ہیں۔ پٹھوں کی ورزش جیسے کہ سائیکلنگ، اسکواٹس اور ٹانگوں کی ہلکی ورزشیں پٹھوں کو مضبوط کرتی ہیں اور چوٹ کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔ درست جوتوں کا انتخاب اکثر لوگ جوتوں کی اہمیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اچھی کوالٹی کے آرام دہ جوتے پہننے سے گھٹنوں کی سیدھ درست رہتی ہے اور پرانے یا خراب فٹنگ والے جوتے اسے بگاڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نرم اور مناسب سائز کے جوتے پہننے سے گھٹنوں پر دباؤ کم ہوتا ہے، جبکہ خراب یا تنگ جوتے درد کا باعث بن سکتے ہیں۔ بیٹھنے اور چلنے کا انداز غلط انداز میں بیٹھنا یا بھاری سامان اٹھاتے وقت کمر اور گھٹنوں کا غلط استعمال جوڑوں پر غیر ضروری کھنچاؤ یا دباؤ ڈالتا ہے۔ ہمیشہ کمر سیدھی رکھیں اور لمبے وقت تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے سے گریز کریں۔ غذا اور بروقت علاج کی اہمیت ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف ورزش ہی کافی نہیں، بلکہ جوڑوں کے لیے دوست غذا بھی ضروری ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز (مچھلی، اخروٹ)، وٹامن ڈی اور کیلشیم سے بھرپور غذا ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط بناتی ہے۔ معمولی درد کو نظر انداز نہ کریں سب سے اہم بات، معمولی چوٹ کو نظر انداز نہ کریں۔ سوجن یا ہلکے درد کو عارضی سمجھ کر چھوڑ دینا مستقبل میں کسی دائمی مرض یا بڑے آپریشن کا سبب بن سکتا ہے۔ کسی بھی تکلیف کی صورت میں فوری طبی معائنہ بڑی پیچیدگیوں سے بچا سکتا ہے۔ گھٹنوں کی صحت کا راز مہنگی ادویات میں نہیں بلکہ وزن کو قابو میں رکھنے، متوازن غذا کھانے اور باقاعدگی سے ہلکی پھلکی ورزش کرنے میں چھپا ہے۔






