مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں، چین اور پاکستان نے ایک ناقابلِ شکست روایتی دوستی قائم کی ہے، چینی صدر

چین کے صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں۔ صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا چین اور پاکستان کو مل کریک طرفہ اقدامات اور سرد جنگ ذہنیت کی مخالفت کرنی چاہیے، چین اور پاکستان کو اعلیٰ سطح اور زیادہ وسیع سکیورٹی تعاون آگے بڑھانا… بیجنگ میں چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات ہوئی، اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ چینی صدر شی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں، چین اور پاکستان نے ایک ناقابلِ شکست روایتی دوستی قائم کی ہے۔ شی جن پنگ نے کہا کہ چین اپنی ہمسایہ سفارتکاری میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چین آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں، معلوم ہے کہ فیلڈ مارشل ایران سے واپس آئے ہیں، امن کیلئے مثبت کوششیں اور ثالثی اقدامات قابل تعریف ہیں۔ صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا چین اور پاکستان کو مل کریک طرفہ اقدامات اور سرد جنگ ذہنیت کی مخالفت کرنی چاہیے، چین اور پاکستان کو اعلیٰ سطح اور زیادہ وسیع سکیورٹی تعاون آگے بڑھانا چاہیے۔ قبل ازیں بیجنگ میں عظیم عوامی ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور مذاکرات کو درست سمت پر لانے کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کلیدی اور اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اس دوران خلیجی خطے کے بحران کے حل کے لیے پاکستان نے مخلصانہ ثالثی کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے دورہ تہران کے دوران ایرانی اور امریکی قیادت کے درمیان رابطے استوار کیے۔ شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اس اہم مشن کی تکمیل کے لیے مسلسل سفر میں رہے اور تمام تر مصروفیات کے باوجود اس عمل کو یقینی بنایا۔ وزیراعظم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ فریقین کے مابین معاملات اب درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں جو خطے کے لیے خوش آئند ہے۔ قبل ازیں چینی وزیراعظم لی چیانگ نے مہمان ہم منصب شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا، جہاں انہیں چینی مسلح افواج کی جانب سے گارڈ آف آنرپیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے چین کے دورے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر بار چین آمد پر ترقی اور جدید تعمیرات کا نیا منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین اس وقت اپنی سفارتی دوستی کے 75 برس مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد بانی قیادت نے رکھی تھی، جسے اب مزید مضبوط بنانے کی کوشش جاری ہے۔ شہباز شریف نے امن اور جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کی حمایت پر چینی صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان چین کے 4 نکاتی ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کا خواہاں ہے۔ دریں اثنا چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے قریبی رابطے اور مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور علاقائی استحکام میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرے گی۔ چینی قیادت نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ بیجنگ پاکستان کے ساتھ روایتی دوستی کو مزید آگے بڑھانے، عملی تعاون کو وسعت دینے اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔