ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور مرکزی بینک کے گورنر کے ہمراہ قطر پہنچ گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکراتی ٹیم قطر میں اُن حساس اور غیر حل شدہ معاملات جیسے منجمد اثاثے پر تبادلہ خیال کریں گے جو ممکنہ مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے میں رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔ وفد میں ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کی شمولیت کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے جس سے یہ قوی اشارہ ملتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے کے معاملے پر پیش رفت زیر غور ہے۔ یاد رہے کہ ایران طویل عرصے سے بیرونِ ملک منجمد فنڈز کی بحالی کو اپنی بنیادی شرائط میں شامل کرتا آیا ہے جبکہ دیگر پیچیدہ معاملات، جیسے ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم پر تفصیلی گفتگو بعد میں متوقع ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق امور ایران اور عمان کے درمیان ہیں جبکہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرتا رہا ہے۔






