ایک نئی سائنسی تحقیق نے مچھر بھگانے والی ادویات کے سے متعلق ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔ جرنل آف ایکسپیریمنٹل بائیولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مچھر نہ صرف سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ وہ وقت کے ساتھ ڈیٹ (DEET) نامی عام ریپیلنٹ کی خوشبو کو پسند کرنا بھی سیکھ سکتے ہیں۔ ڈیٹ، جسے اس کے کیمیائی نام این-ڈائی ایتھائل میٹا ٹولوامائیڈ (N-diethyl-meta-toluamide) سے بھی جانا جاتا ہے، دنیا بھر میں مچھروں کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والا ایک مقبول جزو ہے۔ یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی مچھروں سے تحفظ کے لیے 50 فی صد ڈیٹ پر مشتمل ریپیلنٹس کو مؤثر ترین طریقوں میں شمار کرتی ہے۔ فرانس کی یونیورسٹی آف ٹورز سے تعلق رکھنے والے محقق کلاؤڈیو لزاری کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھروں کو ڈیٹ کی بو کو خون حاصل کرنے کے تجربے سے جوڑنے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔ کلاؤڈیو لزاری کے مطابق ماضی میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ ریپیلنٹس صرف اپنی کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے مؤثر ہوتے ہیں، یعنی یا تو وہ مچھروں کے لیے ناگوار ہوتے ہیں، انہیں دور بھگا دیتے ہیں یا پھر انسانوں کو تلاش کرنے کی ان کی صلاحیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ تاہم، نئی تحقیق اس نظریے کو چیلنج کرتی ہے۔ کلاؤڈیو لازاری کا کہنا ہے کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مچھروں کا ردِعمل ان کے تجربات اور سیکھنے کے عمل کے ذریعے تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سائنس دان سمجھتے ہیں کہ یہ دریافت ریپیلنٹس کے بارے میں ہماری سائنسی سمجھ میں ایک بڑی تبدیلی سامنے لاتی ہے۔






