عالمی بینک نے پاکستان سے این ایف سی ایوارڈ کے وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ عالمی بینک نے پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانے سے متعلق نئی رپورٹ جاری کرتے ہوئے وفاق اور صوبوں کے درمیان قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی ) معاہدے پر نظرثانی کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق این ایف سی کے تحت محاصل کی تقسیم میں کارکردگی کو بنیاد بنایا جانا چاہیے، تاکہ خدماتِ عامہ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے صوبے کو زیادہ وسائل فراہم کیے جائیں۔ عالمی بینک نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد وفاق کے محاصل میں حصہ کم ہوا، تاہم اس کے اخراجات میں اسی تناسب سے کمی نہیں آ سکی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد متعدد وزارتیں صوبوں کو منتقل کی گئیں، تاہم ان کے متبادل وفاق میں بھی برقرار رہے، جس کے باعث وفاقی مالی خسارہ مسلسل بڑھتا رہا۔ عالمی بینک کے مطابق صوبائی حکومتیں ساتویں این ایف سی ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم کے ثمرات عوام تک مؤثر انداز میں منتقل کرنے میں ناکام رہیں، جبکہ این ایف سی کے ذریعے زیادہ وسائل ملنے کے بعد صوبوں نے اپنے اخراجات میں اضافہ کر لیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این ایف سی کے تحت صوبوں کو وفاق کی آمدن سے 57.5 فیصد وسائل کی فراہمی ہو رہی ہے، 80 فیصد اخراجات تنخواہوں، پنشن یا دیگر انتظامی معاملات پر خرچ ہورہے ہیں، غربت کی سطح میں کمی یا عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی نہیں ہو سکی۔ عالمی بینک نے نشاندہی کی کہ صوبائی حکومتیں خدماتِ عامہ کے مقابلے میں انتظامی امور پر زیادہ اخراجات کر رہی ہیں۔صوبائی محاصل کا تقریباً 80 فیصد حصہ انتظامی اخراجات پر صرف ہو رہا ہے، جبکہ ماحولیات کے شعبے کے لیے محض ایک فیصد وسائل مختص کیے جا رہے ہیں۔ بینک نے کہا کہ صوبائی اخراجات کا بڑا حصہ جاری اور انتظامی اخراجات کی نذر ہو رہا ہے، جبکہ ماحولیات، عوامی خدمات، تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبے نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زرعی آمدن پر مؤثر ٹیکس نہ ہونے کے باعث محصولات متاثر ہوئے ہیں۔ 2009 میں صوبائی محاصل معیشت کے 0.3 فیصد کے برابر تھے، جو 2026 میں بڑھ کر 0.7 فیصد ہو گئے، تاہم صوبائی آمدن میں اضافے کے باوجود وفاقی اخراجات میں مناسب کمی نہیں آ سکی۔ عالمی بینک نے کہا کہ وفاق، صوبوں اور بلدیاتی اداروں کے درمیان وسائل کی بہتر اور منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے۔ پاکستان میں اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتواں این ایف سی ایوارڈ اہم اصلاحات تھیں، تاہم وفاقی مالی خسارے کی بڑی وجہ زیادہ مالی منتقلیاں اور کمزور ٹیکس وصولیاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کا مجموعی سرکاری اخراجات میں حصہ 10 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد سے بھی نیچے آ چکا ہے، اس لیے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے، انہیں مستحکم مالی منتقلیاں فراہم کرنے اور وفاق و صوبوں کے درمیان بہتر مالی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ دریں اثنا سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے عالمی بینک کے مطالبات اور تجاویز پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی بینک پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کے معاملے پر اپنے کام سے کام رکھے۔ رضا ربانی نے کہا کہ مالیاتی وفاقیت کا ڈھانچہ آئینِ پاکستان 1973ء کا حصہ ہے، تبدیلیاں تجویز کرنا غیر ملکی اداروں کا کام نہیں ، پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے، بین الاقوامی مالیاتی ملوکیت کا غلام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک 18 ویں ترمیم کی منظوری کے وقت سے ہی اس کا مخالف رہا ہے، عالمی بینک نے ماضی میں واشنگٹن اور دیگر شہروں میں 18 ویں ترمیم کے خلاف سیمینارز منعقد کیے ،وزارتِ خزانہ میں موجود عالمی مالیاتی اداروں کے آلہ کار انہیں پاکستان کی زمینی حقیقتیں بتائیں، پاکستان کی شراکتی وفاقیت ہماری تاریخی، ثقافتی اور سیاسی اقدار میں پیوست ہے۔






