بلوچستان میں دہشتگردی کے 3 واقعات میں 42 قیمتی جانیں گئیں ، 54 خارجیوں کو ہلاک کیا گیا: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گزشتہ 4 روز کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے 3 بڑے واقعات رونما ہوئے، جن کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، یہ سب کچھ بھارت کروا رہا ہے۔ تاہم، بلوچستان کے بہادر عوام اور سیکیورٹی فورسز نے ان بزدلانہ کارروائیوں کا دلیری سے… انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کا پیچھا کیا، دہشتگردوں کےپاس ہمارےیرغمال بچے تھے، اس دوران متعدد خارجی ہلاک ہوئے، گھیرا تنگ ہونےپر18جوانوں کو شہید کردیا، 27پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا، 11پاک فوج کے جوان شہید ہوئےہیں، آج خاران میں 6 اور دلبندین میں 8 فتنہ الہندوستان کےدہشتگرد مارےگئے، کارروائیوں کےدوران 42 قیمتی جانیں گئیں جبکہ 54 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ ان کا کہناتھا کہ ملک دشمن عناصر کو پاکستان کی کامیابی برداشت نہیں، زیادہ تر ہلاک دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہوتاہے، کراچی میں حملہ ہوا 4حملہ آوروں میں سے 3 افغانی تھے، کراچی حملے کی ساری پلاننگ افغانستان میں ہوئی، افغان طالبان رجیم دہشت گردوں میں پاور فراہم کررہی ہے، ان کو پاکستان کی ترقی اور عزت سے مسئلہ ہے، بلوچستان پاکستان کی جان اور شان ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ بلوچستان کی خوشحالی ایک حقیقت ہے جسے کوئی نہیں بدل سکتا، دہشت گردوں کو بلوچستان کی خوشحالی ہضم نہیں ہو رہی، دہشتگردوں کو ہر چیز سے مسئلہ ہے جو بلوچستان کےعوام کیلئے ہو، دہشتگردی کےمعاملہ پرفیلڈ مارشل اور حکومت کا موقف واضح ہے، دہشتگردوں کا ہر جگہ پیچھا کریں گے اوران کا شکار کریں گے۔