فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے خلیل الحیہ کو اپنا نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حماس نے 6 جولائی کو غزہ میں اپنی قائم کردہ حکومت تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حماس کے مطابق یہ اقدام ایک امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد جنگ کے بعد غزہ میں ایک سویلین حکومت… خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اعلان تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کیا گیا۔ یاد رہے کہ حماس نے 6 جولائی کو غزہ میں اپنی قائم کردہ حکومت تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حماس کے مطابق یہ اقدام ایک امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد جنگ کے بعد غزہ میں ایک سویلین حکومت کا قیام ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ وہ انتظامی اختیارات فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک قومی کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم وزارتیں اور ان کا عملہ بدستور کام جاری رکھیں گے جبکہ سکیورٹی اور پولیس کا کنٹرول حماس کے پاس رہے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ منصوبے کے تحت غزہ میں ایک غیر عسکری، سویلین سیٹ اپ قائم کرنا مقصود ہے، جس کی نگرانی کے لیے ایک بورڈ آف پیس بھی تشکیل دیا گیا ہے۔ اس بورڈ نے حماس کے اعلان کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ فیصلے وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ دوسری جانب اسرائیل نے حماس کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے “ڈرامہ” قرار دیا تھا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈین ساعر کا کہنا تھا کہ جب تک حماس ہتھیار نہیں ڈالتی، کوئی بھی سویلین حکومت درحقیقت حماس کے زیر اثر ہی رہے گی۔ جواباً حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے گی جب تک غزہ پر حملے مکمل طور پر بند نہیں کیے جاتے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد غزہ شدید تباہی کا شکار ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثریت خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزار رہی ہے۔






