سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے امریکی صدر ٹرمپ سےہنگامی ملاقات کی۔ امریکی میڈیا کے مطابق ملاقات کامقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی قیادت تک پہنچانا تھا۔ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات میں سعودی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں۔ سعوی وزیردفاع نےکہا کہ ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے بنیادی ڈھانچے اور توانائی تنصیبات پر حملےکرکے ریڈلائن کراس کی جس کی وجہ سےجواب دینا پڑا۔ سعوی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ کہا عراق میں کارروائی کا مقصد یہ نہیں کہ ہم کشیدگی بڑھانےکے حامی ہیں، عراق میں کارروائی کا مقصد یہ بتانا تھا کہ مملکت دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ سعودی وزیرِدفاع نے جے ڈی وینس سے کہا کہ نیتن یاہو ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے پر زور دے رہے ہیں، سعودی عرب کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے کیونکہ یہ زیادہ سودمند راستہ ہے۔ امریکی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کا عراق پر حملوں کا مقصد حوثیوں کوپیغام دینا تھا، سعودی وزیرِدفاع نےامریکی نائب صدر کو بتایا کہ سعودی عرب حوثیوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سعودی وزیرِدفاع نےکہا کہ حوثیوں کے معاملے پر فی الحال امریکا کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ سعودی وزیرِدفاع نےیہ بھی کہا کہ حوثیوں کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔






