قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے حوالے سے کہا ہے کہ اب تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، تاہم آنے والے گھنٹوں یا دنوں میں صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ میڈیا بریفنگ کے دوران ماجد الانصاری نے کہا کہ تمام متعلقہ فریق ایک قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس وقت سب سے اہم مقصد مذاکراتی عمل کی بحالی ہے۔ ترجمان قطری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی کم کرنا اور سفارت کاری کو دوبارہ فعال بنانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کی جانب واپسی کے لیے جنگ بندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور تمام فریق ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی نئے حملے سے اجتناب اور خطے میں استحکام برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی مکمل طور پر برقرار رہے اور تجارتی و بحری جہازوں پر کسی قسم کے حملے نہ ہوں، کیونکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس آبی گزرگاہ کی سلامتی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قطر، پاکستان اور عمان سمیت ثالث ممالک اس معاملے پر باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں، یہ ممالک فریقین کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے، تجاویز اور مسودوں کے تبادلے اور اعتماد سازی کے اقدامات میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام سفارتی کوششوں کا مرکز کشیدگی سے بچاؤ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلا رکھنا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے اور ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔






