وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی تعاون اور برٹش ہائی کمیشن پاکستان کے تعاون سے سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پاکستان وائلڈ لائف پروٹیکشن ایوارڈز 2026 کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے خدمات انجام دینے والے فیلڈ… تقریب میں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی تعاون ڈاکٹر شذرہ منصب کھرل نے بطور مہمان خصوصی جبکہ پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی۔ تقریب میں ماہرین ماحولیات، وزارت موسمیاتی تبدیلی کے افسران، سفارت کاروں، مختلف جامعات کے اساتذہ و طلبہ اور جنگلی حیات کے تحفظ سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ عالمی رینجرز ڈے کے موقع پر منعقدہ تقریب میں مشکل موسمی حالات اور برفانی چیتے سمیت دیگر نایاب جنگلی حیات کے قدرتی مسکن میں فرائض انجام دینے والے محافظوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ غیر قانونی شکار کی روک تھام اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والے سات فیلڈ رینجرز کو مختلف کیٹیگریز میں ایوارڈز دیے گئے۔ ان میں گلگت بلتستان سے تین، خیبرپختونخوا سے تین اور آزاد جموں و کشمیر سے ایک فیلڈ رینجر شامل تھے۔ قومی سنو لیپرڈ ایوارڈ 2026 خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی رینجر گلباز خان کو دیا گیا، جنہوں نے کوہستان میں برفانی چیتے کی کھال اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی تھی۔ دیگر اعزازات حاصل کرنے والوں میں ضلع نیلم آزاد کشمیر کے گیم واچر محمد یونس حسرت کو مسک ڈیئر ایوارڈ، لوئر چترال کے ہیڈ وائلڈ لائف واچر ناصر احمد کو مارخور ایوارڈ، اپر کوہستان کے سیر زہاب کو بلیک بیئر ایوارڈ، گلگت بلتستان وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے سجاد حسین کو اڑیال ایوارڈ، سکردو کے گیم انسپکٹر فدا حسین کو ہمالین لنکس ایوارڈ اور ہنزہ کے وائلڈ لائف چوکیدار پرویز اقبال کو آئی بیکس ایوارڈ شامل ہیں۔ کمیونٹی کنزرویشن کے لیے نیا ایوارڈ قومی کمیٹی کی سفارش پر رواں سال پہلی مرتبہ عاشق احمد خان کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن ایکسیلنس ایوارڈ بھی متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ میں کمیونٹی کی نمایاں خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔ اس ایوارڈ کا پہلا اعزاز اپر چترال کی زوندرانگرام وادی کی ویلی کنزرویشن اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (VCDO) کو دیا گیا۔ تنظیم کو کمیونٹی کی سطح پر جنگلی حیات کے تحفظ اور مقامی شراکت داری کے فروغ میں نمایاں کردار پر یہ اعزاز دیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ برطانیہ کے ڈارون انیشی ایٹو کے تعاون سے پاکستان کے جنگلی حیات کے محافظ اور پہاڑی علاقوں کی مقامی آبادیاں اہم قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برفانی چیتے کے قدرتی مسکن سے لے کر اڑیال کے رہائشی علاقوں تک مقامی سطح پر جاری تحفظِ فطرت کی کوششیں نایاب جنگلی حیات کے ساتھ پاکستان کے قیمتی قدرتی وسائل کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وزیر مملکت ڈاکٹر شذرہ منصب کھرل نے کہا کہ پاکستان کی جنگلی حیات قومی اثاثہ ہے اور اس کا تحفظ مشترکہ عزم اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وائلڈ لائف پروٹیکشن ایوارڈز ان رینجرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو سخت موسمی حالات اور دشوار گزار علاقوں میں بھی جنگلات، پہاڑوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے انتھک کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی ماحول کا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ مقامی آبادی، متعلقہ اداروں اور آنے والی نسلوں کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد علی نواز نے کہا کہ ماحولیات اور جنگلی حیات کا تحفظ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مقامی کمیونٹی، وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹس اور ماہرین مل کر کام نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں رینجرز اور مقامی لوگوں نے ثابت کیا ہے کہ صبر، باہمی اعتماد اور مسلسل محنت کے ذریعے جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تنازعات میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ تقریب کے اختتام پر وزیر مملکت ڈاکٹر شذرہ منصب کھرل، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور دیگر مہمانوں نے ایوارڈ حاصل کرنے والے رینجرز اور کمیونٹی تنظیم کے نمائندوں میں اعزازات تقسیم کیے۔ رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے طلبہ اور کمیٹی ارکان میں بھی اعزازی شیلڈز اور اسناد تقسیم کی گئیں۔






