وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد چڑھائی کرنے والوں کا قانون کے مطابق مؤثرعلاج کیا جائے گا، پنجاب، کے پی نفری نہیں دیتے تو بھی ہماری سیکیورٹی فورسز کا نمبر پورا ہے.
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ راناثنااللہ کا کہنا تھا کہ 2023 الیکشن کا سال ہے، پارٹی کیلئے تنظیمی اور الیکشن کیلئے ایک سروے ہوگا جو 15 اکتوبر سے شروع ہوگا۔
رانا ثںااللہ کا کہنا تھا کہ اس بات کا ادراک ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے، لیکن یہ صورتحال پی ٹی آئی حکومت کا تسلسل ہے جس میں مہنگائی بڑھ رہی تھی، ہم مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہےہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے بہت غلط معاہدہ کیا، اور جاتے جاتے معاہدے کی خلاف ورزی بھی کی، ہم نے مشکل فیصلےکئے جس کی وجہ سے مہنگائی ہوئی، اور اگر فیصلےنہ کرتے تو ملکی معیشت کو نقصان ہوتا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پاسداری نہیں کی جس کی وجہ سے نئے معاہدے میں تھوڑی دقت اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، اور دوسری طرف شوکت ترین نے چاہا آئی ایم ایف کا معاہدہ نہ ہو جو افسوس ناک بات ہے، ساری صورتحال میں تحریک انصاف کا کردار نہایت بدترین ہے، عمران خان نے ابھی تک اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ہم مہنگائی کم کرنے کے قریب تھے لیکن سیلاب نے بہت نقصان کر دیا ہے، وزیراعظم پرامید تھے کہ آئی ایم ایف کے معاہدے کے ہوتے ہی عوام کو ریلیف دیں گے۔
وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ بڑی مقبولیت ہے، بڑا بیانیہ کامیاب ہے، عمران خان نے ایسا کون سا کام کیا ہے جو اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا، عمران خان کے بیانیےکی کوئی حیثیت نہیں۔






