وزیراعظم شہباز شریف کا سیرت النبیﷺ کانفرنس میں سیاسی مخالفین یر سوال اٹھا دیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ناحق جیلوں میں ڈالنا ، قوم کے اتحاد کو پاش پاش کرکے معاشرتی رواج کو ادھیڑ کر رکھ دینا ریاست مدینہ نہیں۔
وزیراعظم شہازشریف نے عمران خان کو آئینہ دکھا دیا۔ بولے مثال ریاست مدینہ کی اور عدالت کو جواب دینے تک کو تیارنہیں۔ بہتان، جھوٹ اور تہمتیں لگاکر مخالفین کو ناحق قید میں ڈالا گیا۔ کیا راست مدینہ کے ماننے والوں کا یہ طرز عمل ہوسکتا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مخالفین پر ایسے ایسے جملے کہ جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔ حاضرین محفل سے سوال کیا کہ 30 لاکھ سیلاب متاثرین ہمارے سامنے ہیں اس کے باوجود بھی کیا ہمارا جذبہ قربانی اور ایثار انصار مدینہ والا ہے؟
سیاسی مخالفین پر ظنز کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی انہیں سیلاب زدگان کے بجائے اپنی سیاست چمکانے کی پڑی ہے۔ نہ ان کے پاس وقت ہے نہ ہی وسائل جو سیلاب متاثرین میں تقسیم کیے جائیں۔ بیت المال اور توشہ خانہ ذاتی کمائی کا ذریعہ بن جائیں، کیا ریاست مدینہ میں ایسا کوئی تصور تھا؟
دستور اور قانون کی پاسداری نہ کی جائے، کیا ریاست مدینہ میں ایسا ممکن تھا؟
انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں تو لوگوں کے مالی بوجھ ختم کیے جاتے تھے تبھی زکواۃ دینے والے تو بہت ہوتے مگر لینے والا کوئی نہ ہوتا تھا۔
انہوں نے کہا میرے نزدیک ریاست مدینہ اسی صورت بن سکتی ہے جب سیرت النبیﷺ اور اصحاب صحابہؓ کو مشعل راہ بنا کر ان پر عمل پیرا ہوا جائے۔






