نیوزی لینڈ میں ایک ہفتے کے دوران ساحل پر پھنسنے والی 477 پاِئلٹ وہیلز ہلاک ہوگئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیو زی لینڈ میں موسمِ گرما کے دوران پاِئلٹ وہیلز کے بڑے پیمانے پر ساحلوں پر پھنس جانے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، سائنسدان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اب تک اس کی وجوہات نہیں جان سکے۔
رپورٹ کے مطابق رواں گرمیوں میں بھی صرف نیوزی لینڈ میں اب تک دوران ساحل پر پھنسنے والی 477 پائلٹ وہیلز ہلاک ہوئیں یا انہیں آسان موت دی گئی۔
نیوزی لینڈ میں جنگلی حیات کے تحفظ کے سرکاری ادارے محکمۂ تحفظ کے مطابق 7 اکتوبر کو 232 جب کہ 10 اکتوبر کو 245 پائلٹ وہیلز ساحل پر پھنس گئی تھیں۔
نیوزی لینڈ میں وہیلز کو بچانے کے لیے اقدامات کرنے والے ادارے ’’پراجیکٹ جوناہ‘‘ کے جنرل مینیجر ڈیرن گروور کا کہنا ہے کہ پائلٹ وہیلز کے مرنے کے واقعات نیویز لینڈ کے انتہائی دور افتادہ جزیرے چیتھم میں رونما ہوئے۔
نیوزی لینڈ کے محکمۂ تحفظ میں مشیر کی حیثیت سے خدمات سرنجام دینے والے ڈیو لوند کوئسٹ کا کہنا ہے کہ اس جزیرے میں آبادی انتہائی کم ہے اور ساحل پر لوگوں کو شارکس (sharks) کے حملوں کے سنگین خطرات رہتے ہیں۔
ڈیو لوند کوئسٹ نے بتایا کہ انسانی جانوں کو درپیش خطرات کے باعث چیتھم جزائر میں وہیلز کو فعال طریقے سے پانیوں میں واپس جانے میں مدد فراہم نہیں جاتی۔ اس لیے ساحلوں پر پھنسی ان وہیلز کو بغیر تکلیف کے ہلاک کرنا ہی سب سے رحم دلانہ اقدام ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل آسٹریلیا کے علاقے تسمانیہ میں بھی 22 پائلٹ نسل کی وہیلز ہلاک ہو ئی تھیں۔






