وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ جب عمران خان کو کوئی ڈیل نہیں ملی اور غیر آئینی مطالبات نہیں مانے گئے تو کنٹیر پر کھڑے ہوکر کہتے ہے کسی سے بات نہی کروں گا۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ بند گلی میں پھنسنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماء اب ادارون اور عدالت سے مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں، شا رٹ کٹ مارچ میں نا لوگ نکل رہے نا ہی اس کا کوئی نتیجہ نکل رہا ہے، اب تحریک انصاف کے رہنماء فوج اور عدالت سے “موجودہ سیاسی بحران” کے خاتمے کے لئے منت سماجت کر رہے۔
شیری رحمان کا کہنا ہے کہ جس کو تحریک انصاف کے رہنماء سیاسی بحران کہہ رہے وہ سیاسی بحران نہیں بلکہ عمران خان کی طرز سیاست ہے، پارلیمنٹ کو اہمیت دیتے تو آج ریسکیو اپیل نا کرنی پڑتی، تحریک انصاف ابھی جمہوری اور آئینی سیاست سیکھنے کے مراحل میں ہے، اگر جمہوری سیاستدان ہوتے تو مارشل لا لگانے کی بات نا کرتے یہ چاہتے ہیں اس نظام کو لپیٹ کر مجھے ملک کا بادشاہ بنائو، جب آپ پارلیمان کی بجائے کنٹینر کا انتخاب کرے گے تو بند گلی میں ہی جائے گے۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درپیش صورتحال سنگین ہے، عالمی برادری کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا ادراک ہی نہیں،آلودگی،گیسز کا اخراج، حدت اور دیگر مسائل کی وجہ سےمنفی اثرات مرتب ہوئے، موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک جو قرض تلے پہلے ہی دبے ہوں کو مختص فنڈز مشکل سے ملتاہے
شیری رحمان نے مزید کہا ہے کہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ہر پلیٹ فارم پر مقدمہ لڑا، سندھ میں سیلابی پانی ابھی تک کھڑا ہے جس کی نکاسی میں وقت لگے گا، سندھ کا 70فیصد حصہ پانی میں ڈوب گیا، ابھی بھی جھیلیں بن گئی ہیں،سیلاب سے بلوچستان اور سندھ زیادہ متاثر ہوئے ہیں، متاثرین کی بحالی اور مدد حکومت کی اولین ترجیح ہے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے جس باعث ہمیں سیلاب کی صورت میں چیلنج کا سامنا ہوا۔






