کیا کل گورنر پنجاب بلیغ الرحمان وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہٰی کو ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے؟ کیوں کہ وزیراعلیٰ کی جانب سےکل اعتماد کا ووٹ لینےکا چانس ختم ہوگیا، اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اجلاس جمعے تک ملتوی کردیا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کے اس فیصلے کےبعد پی ڈی ایم اور اتحادیوں کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ سب کو انتظار ہے کہ پی ڈی ایم اب کیا کرے گی۔
اس سےقبل ن لیگ کے مشاورتی اجلاس میں طے ہوا تھا کہ اگر کل اعتماد کا ووٹ نہ لیا تو چوہدری پرویز الہٰٰی کو وزارت اعلیٰ سے ہٹا دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ آج پنجاب اسمبلی کے اسپیکر سبطین خان نے ایجنڈے پرموجود تمام کارروائی کو جمعہ 23 دسمبر تک کیلئے مؤخر کردیا ہے۔
اسپیکرسبطین خان کی زیرصدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کردی۔
کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس 5 منٹ کیلئے ملتوی کیا گیا۔
بعد ازاں اسپیکر نے ایجنڈے پرموجود تمام کارروائی کو جمعہ تک کیلئے مؤخر کردیا اور رولنگ دی کہ آج کی کارروائی ختم ہوگئی لہٰذا جمعے تک اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے۔اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس جمعے کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی، اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان اور ڈپٹی اسپیکر واثق قیوم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے جبکہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو اسمبلی سے 21 دسمبر کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا ہے تاہم اسپیکر اسمبلی اجلاس بلانے سے انکار کرچکے ہیں۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان نے 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔






