پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان لاہور میں گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوگئے، جس کا مقصد گورنر بلیغ الرحمٰن کو وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے اقدامات سے روکنا ہے۔
پی ٹی آئی کے کارکنان نے گورنر ہاؤس لاہور کے باہر احتجاج کے دوران گورنر پنجاب بلیغ الرحمن کے خلاف شدید نعرے بازی کی جہاں پی ٹی آئی کا 100 میٹر طویل پرچم بھی ساتھ لے آئے۔
گورنر ہاؤس کے باہر پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں اور سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما حماد اظہر اور ڈاکٹر یاسمین راشد بھی گورنر ہاؤس کے باہر پہنچے اور حماد اظہر نے کہا کہ گورنر ہاؤس کو عوامی طاقت کے خوف سے سیل کردیا گیا ہے۔
حماد اظہر نے گزشتہ روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب اسمبلی کو ماورائے آئین مذاق بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے مینڈیٹ کی توہین کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے اراکین صوبائی اسمبلی کو ٹیلی فون آرہے ہیں، اس طرح زرداری راج کے پیسے پنجاب کے معاملات کے اندر چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عوام اس پر خاموش نہیں رہیں گے، اس پر عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ کل گورنر ہاؤس کے سامنے زبردست اجتماع کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ کسی کو غیرآئینی اقدامات نہیں کرنے دیں گے اور عوام اپنے آپ کو دکھائیں گےکہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے 19 دسمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا تھا تاہم اسپیکر نے ان کے احکامات کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اجلاس جمعے تک ملتوی کردیا تھا۔
اسپیکر کی جانب سے اجلاس منعقد نہ کرنے پر گورنر کی سمری کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس منعقد نہیں ہوا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے بتایا تھا کہ اگر اسمبلی کا اجلاس منعقد نہ ہوا تو پرویز الہٰی وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے اور گورنر ان کو ڈی نوٹیفائی کردیں گے۔
گورنر پنجاب نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ اپنے پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور ان کی اپنی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے اراکین کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’چند ہفتے قبل پنجاب کے حکمران اتحاد پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان اسمبلی کی تحلیل، ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری عہدیداروں کے تبادلوں کے حوالے سے سنگین اختلافات سامنے آئے تھے‘۔
گورنر پنجاب نے کہا تھا کہ اختلافات کے حوالے سے حال ہی میں کابینہ کے ایک رکن کی جانب سے پرویزالہٰی کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد دیا جانے والا استعفیٰ ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ 4 دسمبر کو ایک ٹی وی پروگرام میں کہہ چکے ہیں کہ مارچ 2023 تک صوبائی اسمبلی کہیں نہیں جارہی ہے جو پی ٹی آئی کے عوام کے سامنے موجود مؤقف کے بالکل برعکس ہے۔
گورنر بلیغ الرحمٰن نے کہا تھا کہ پرویز الہٰی کو اسمبلی میں اعتماد حاصل نہیں ہے اور اسی لیے اسمبلی کا اجلاس تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے آئین کی شق 130(7) کے تحت 21 دسمبر کو شام 4 بجے طلب کرلیا گیا ہے۔






