وزیر خارجہ اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان میں یہ سیلاب بہت تاریخی تھا اور آج تک سیلاب متاثرین مشکل میں ہیں، اقوام متحدہ سے لے کر شرم الشیخ تک پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکسان سیلاب میں ڈوب گیا، دنیا نے ابھی تک دیکھا نہیں، کہیں مثال نہیں ہے کہ ایک تہائی…
دادو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ قیامت سے پہلے قیامت ہے، ہم اس قدرتی آفت سے گزر رہے ہیں، سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں اب بھی پانی موجود ہے، جہاں سے پانی نکل چکا ہے وہاں پر تباہی ہی تباہی ہے، زراعت اور گھروں سمیت ہر شعبے میں بحران پیدا ہوگیا ہے، صحت کا انفرا اسٹرکچر بری طرح تباہ ہوا ہے، صرف سندھ میں ہی نہیں باقی علاقوں میں بھی تعلیم کو نقصان ہوا ہے لیکن صرف سندھ میں 50 فیصد تعلیمی ادارے تباہ ہیں۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ سے لے کر شرم الشیخ تک پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکسان سیلاب میں ڈوب گیا۔ آج تک سیلاب متاثرین مشکل میں ہیں، یہ سیلاب بہت تاریخی تھا۔
انہوں نےکہا کہ دنیا نے ابھی تک ایسا سیلاب نہیں دیکھا، یہ قیامت سے پہلے قیامت ہے، ایک تہائی ملک ڈوب گیا، ہم اس قدرتی آفت سے گزر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں اب بھی پانی موجود ہے، جہاں سے پانی نکل چکا ہے وہاں پر تباہی ہی تباہی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پاکستا ن کا موقف دنیا بھر میں پیش کیا، سیلاب متاثرین کی بحالی، گھروں کی تعمیر اور نقصانات کے ازالے کے لیے ورلڈ بینک سے رقم منظو ر کروائی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے سیلاب متاثرین کے لئےکئی پروگرامز شروع کیےہیں، سندھ حکومت کی ملکیت زمین پر رہنے والوں کو اس کا مالک بنادیں گے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کوویڈ کے دوران ساری چیزیں بھول کر ہم نے عمران خان سے کہا کہ آپ وزیر اعظم ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں، سیلاب کی صورت حال میں ہمارے سیاسی حریف نے سندھ ، جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا اور کوہستان و گلگت بلتستان میں مدد کرنے کے بجائے اپنی سیاست جاری رکھی۔ ملک میں سیلاب کی صورتحال تھی مگر پی ٹی آئی کا لانگ مارچ چلتا رہا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سندھ میں 50 فیصد تعلیمی ادارے متاثر یا تباہ ہوچکے ہیں، اپوزیشن معاشی بحران کو سنجیدگی سے لیکر حکومت کا ساتھ دے، ہم بھی اپوزیشن کا حصہ تھے، حکومت کے خلاف تھے مگر کورونا میں ہم نے ساتھ دیا، سیاسی مخالفین ہماری مدد نہیں کرتے تو عوام کی مدد نہیں کرتے، اپوزیشن کی جی ٹی روڈ کی سیاست چلتی رہی، ملک کے اندر اور با ہر برا تاثر گیا ، جس اسکیل کا بحران ہے، ملکی سطح پر اتنی اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔
وزیر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ مشن مشکل ضرور ہے، وقت لگے گا لیکن ہم لوگوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے، دنیا سے جو بھی مدد اکٹھی کر سکتے ہیں کریں گے، ابھی سے یہ کام شروع ہوگا، وزیر اعظم اوریواین سیکریٹری جنرل 9جنوری کو کانفرنس رکھ رہے ہیں، ہم دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کریں گے، تب ہماری ابتدا ہوگی، دادو کے عوام کو ماضی میں بھی اکیلا نہیں چھوڑا اب بھی نہیں چھوڑیں گے، یو این سیکریٹری جنرل کا شکر گزار ہوں کہ انہوں درخواست پر پاکستان کا دورہ کیا۔






