اس وقت ساری قوم کو ایک خوف آرہا ہے کہ پاکستان کہاں جا رہا ہے: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کے خلاف وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے انتخابات اور قانون کی بالادستی پر زور دیا اور کہا کہ ملک کو اس دلدل سے نکالنےکا حل یہ ہے کہ پاکستان کو ایسے چلانا پڑے گا جو آج تک ہم نے نہیں چلایا۔ عمران خان نے کہا کہ اس وقت…
پی ٹی آئی کی جانب سے پاکستان کی معاشی صورت حال سے متعلق وائٹ پیپر جاری کرنے کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اس وقت ساری قوم کو ایک خوف آرہا ہے کہ پاکستان کہاں جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے 7 لاکھ پاکستانی جو پروفیشنلز تھے وہ 7 مہینے میں ملک چھوڑ گئے ہیں اور مجھے جبل علی سے پیغام آیا ہے جبل علی کی صنعتی اسٹیٹ میں پاکستانیوں نے پچھلے 7 ماہ میں جتنی سرمایہ کاری کی ہے وہ کبھی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ معیشت سیاست سے جڑی ہوئی ہے، دنیا میں کوئی معیشت تنہائی میں نہیں چل سکتی اس لیے سمجھنا پڑے گا کہ کس پس منظر کی وجہ سے یہ سب کچھ ہورہا ہے، یہ سمجھے بغیر صحیح تجزیہ نہیں ہوتا اور درست حل تجویز نہیں کر سکتے کہ ملک معاشی دلدل سے کیسے نکلے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹس کو کا سارا سیٹ اپ ایک چیز پر متفق ہے کہ انتخابات نہیں کروانے ہیں اور بدقسمتی سے انتخابات ہی واحد حل ہے، اگر ہمیں اس دلدل سے نکلنا ہے تو آئی ایم ایف میں جائے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے شرائط سے اس ملک میں غربت میں کیا اثر پڑے گا اور اگر نہیں جاتے تو اس سے بھی برے حالات ہیں، اس کا واحد حل انتخابات ہیں لیکن وہ چاہتے نہیں ہیں اور یہی پر پاکستان پھنسا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے یعنی ہمارے پاس ڈالرز کم ہیں، ان کی حکومت نے طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کی، جو ملک اپنی برآمدات نہیں بڑھائے گا تو وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ پاکستان ایشیا کا ٹائیگر بن جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حوالے سے ماضی میں ہم نے بھی شور مچایا کیونکہ وہاں جانے سے خود مختاری کا مسئلہ آجاتا ہے اور آپ اپنے فیصلے نہیں کرسکتے اور وہ حکم دیتے ہیں، ان کے نمائندے وہاں بیٹھ کر بتاتے ہیں کیا کرنا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ یہ ایک مسلسل 30، 40 سال سے ہو رہا ہے اور کسی نے برآمدات بڑھانے کا سوچا ہی نہیں، مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے سب سے بڑا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھوڑا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں سپرسائیکل آیا اور تیل کی قیمتیں اوپر گئیں اور پھر کورونا آیا تو ہمارے لیے مسائل بڑھ گئے، 3 ارب ڈالر کی کووڈ ویکسین خریدنی پڑی جو غیرمعمولی لاگت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ معیشت اور دیگر پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنی چاہیے اور بڑی دلچسپ بات کی کہ ڈالر ملک سے باہر جا رہے ہیں روکنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف میڈیا کا پروپیگنڈا اتنا تھا کہ جب کابینہ کے اجلاس میں شرح نمو کے اعداد و شمار رکھے گئے تو کابینہ اراکین نے ماننے سے انکار کیا، آخری دو سال میں 6 فیصد شرح تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں آمروں کو نکال دیں، سیٹو اور سینٹو میں ایوب خان کے پاس آنے والے امریکا کے ڈالر، ضیاالحق کے زمانے میں افغان جنگ میں آئے اور پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے 80 ہزار افراد قتل کروا کر جو ڈالر آئے وہ نکال دیں تو یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بہترین کارکردگی ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم نے 3 کروڑ 40 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان دریافت کیے تھے یا 4 کروڑ تھے، ہم نے نادرا کے ساتھ بیٹھ کر تجزیہ کیا اور آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا استعمال کیا کہ ان کا رہن سہن کیا تھا، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لے آئے تھے تاکہ ٹیکس چھپانا ناممکن ہو اور جب حکومت گرائی تو ہمیں 8 ارب تک ٹیکس لے جانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 3 سال میں ہم نے 55 لاکھ نوکریاں پیدا کیں اور تیزی سے آگے جانے کا منصوبہ تھا۔
وفاقی حکومت کے اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مہنگائی 50 سال میں سب سے زیادہ کی، آٹا، بجلی، پیٹرولیم، پیاز، ٹماٹر، گھی اور دالوں کی قیمتیں 100 سے 200 فیصد بڑھ گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک 15 لاکھ ٹیکسٹائل مزدور نوکریاں کھو بیٹھے ہیں، پچھلے سال مارچ، اپریل میں ٹیکسٹائل والے کہہ رہے تھے ہمیں فیصل آباد میں مزدور نہیں مل رہے ہیں اور باہر سے منگوانے پڑ رہے ہیں اور اسی ٹیکسٹائل انڈسٹری سے اب 15 لاکھ مزدور بے روزگار ہوئے۔
بیرونی ترسیلات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ برآمدات اور ترسیلات میں ہر مہینے 2 ارب کی کمی آنا شروع ہوئی ہے اور غیرملکی زرمبادلہ مارچ میں 16.4 تھا اور آج 5.7 پر پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈالر انفارملی 260 پر پہنچا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط بھی ہیں، اس سے نکلنے کے لیے سیاسی استحکام درکار ہے اور اس کے لیے انتخابات کروائے جائیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو خوف ناک منظر کا سامنا ہے، ایک طرف بے روزگاری اور دوسری طرف مہنگائی کا کمبی نیشن ملک کے لیے بڑا خطرناک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امید رکھی جائے کہ ایک حکومت مینڈیٹ سے آئے اور جب عوام پیچھے کھڑے ہوں تو وہ مشکل فیصلے کریں، مشکل فیصلے امپورٹڈ حکومت نہیں کرسکتی، آئی ایم ایف ان سے مشکل فیصلوں کا کہے گا تو ان کو ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا۔