سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کیلئے جینیوا کانفرنس شروع

پاکستان کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں موسمیاتی تباہ کاریوں کے باعث ہونے والے نقصان کے ازالے اور مدد کے لیے کانفرنس کا آغاز ہو گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا سیلاب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، آج ہم تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں یو این سیکرٹری جنرل کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، پاکستان کے عوام یو این سیکرٹری جنرل کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، عالمی برادری کے بھی تعاون پر مشکور ہیں۔
قبل ازیں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے شرکا کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ برس تباہ کن سیلاب آیا، پاکستان میں سیلاب سے تباہ کاریوں کا حجم بہت بڑا ہے، سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثرہ ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے 5 ماہ بعد بھی کئی علاقے زیر آب ہیں، سیلاب سے متاثر ہ علاقوں میں تعمیر نو کے اقدامات جاری ہیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لچکدار انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اولین ترجیح ہے، متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے اگلے کئی سالوں تک ہمیں اپنے شراکت داروں سے خاطر خواہ مدد کی ضرورت ہو گی۔
اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے علاوہ وفاقی وزراء بھی شریک ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور دیگر عالمی رہنما بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
انتونیو گوتریس کا کہنا تھا میں نے خود پاکستان جا کر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، پاکستان میں سیلاب کے باعث بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
یو این سیکرٹی جنرل کا کہنا تھا پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا حال دیکھ کر دل ٹوٹ گیا لیکن مشکل حالات میں بھی پاکستانی عوام کا جذبہ دیکھ کر حیران ہوا۔