ثقافتی قونصلیٹ اسلامی جمہوریہ ایران، اسلام آباد کی جانب سے ایک خصوصی تقریب جشن منعقد ہوئی جس کے میزبان آقائے احسان خزاعی، ثقافتی قونصلر سفارت اسلامی جمہوریہ ایران، اسلام آباد نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے حضرت فاطمہ زہرا (س) اور یوم خواتین اور یوم مادرکے حوالے سے حاضرین کی خدمت میں مبارکباد عرض کی اور آپکو زبردست خراج عقیدت پیش…
انہوں نے حضرت امام خمینیؒ رہبر کبیر انقلاب اسلامی ایران کے یوم پیدائش کے موقع پر بھی مبارک پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد خواتین مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں اور بہت سے میدانوں میں پیش قدم رہی ہیں۔
ایرانی خواتین کی تعداد میں مختلف شعبوں میں خاص طور پر ان گذشتہ تین ماہ میں حضرت فاطمہ زہرا (س) کو نمونہ بناکر اپنے پردے کی حفاظت کی اور مغربی میڈیا نے جو تصویر پیش کی وہ درست نہیں ہے کیونکہ اکثر ایرانی خواتین کی اکثریت حجاب کے حق میں ہے۔
ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے ہمیں حضرت فاطمہ (س) کی سیرت اور اسوہ پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ وہ ہمارے لیے رول ماڈل حیثیت رکھتی ہے۔ معروف مذہبی اسکالر خانم طیبہ بخاری اور ڈاکٹر فرحت جبین نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا۔
خانم طیبہ کہا حضرت فاطمہ(س) کی ذات گرامی کے مختلف پہلووں کا ابھی تک احاطہ نہیں کیا گیا انہوں نے آپکی شان میں حضرت علامہ محمد اقبال کے اشعار جو فارسی میں ہیں وہ پڑھے اور ان کی تشریح کی جس میں اقبال فرماتے ہیں’مادران را اسوہ کامل بتول‘ کہ بتول کی ذات ماوں کے لیے اسوہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر فرحت جبین نے اہل بیتؑ کے فضائل اور اس پر عمل کرنے پر تاکید کی جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ منہاج القرآن کے دف گروپ نے اہل بیتؑ کی شان میں دف کے ساتھ مداح سرائی کی جبکہ مہمان خواتین کو خصوصی تحائف سے نوازا گیا۔






