پی پی پی کے تحریک انصاف سے جلد مذاکرات متوقع

پاکستان پیپلز پارٹی کے تحریک انصاف سے جلد مذاکرات کے امکانات روشن ہو گئے۔ پیپلز پارٹی کی مذاکراتی ٹیم نے ن لیگ کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ٹیم میں یوسف رضا گیلانی ، سید نوید قمر اور قمر زمان کائرہ شامل تھے۔ن لیگ کی نمائندگی ایاز صادق ، سعد رفیق اور راناثناء اللہ نے ویڈیو لنک کے زریعے کی۔
ملاقات میں قومی سطح پر سیاسی انتشار کے تدراک کے لیے مذاکرات کے عمل کو شروع کرنے کے اقدامات پر غور کیا گیا،اس سے قبل پی پی اور اے این پی کے رہنماؤں میں بھی ملاقات ہوئی جس میں ملک میں جاری سیاسی کشیدگی اور معاشی استحکام پر سیاسی لائحہ عمل طے کرنے کے لیے مشاورت پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ اداروں کے بیچ تصادم اور ڈیڈ لاک ملک اور قوم کے لیے مزید سیاسی ، معاشی ، آئینی اور عدالتی بحران میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ کے آئینی کردار اور سول بالادستی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا تاہم کسی بھی سیاسی بحران کا حل بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے ہی نکالا جا سکتاہے۔دونوں جماعتوں کا الیکشن کے حوالے سے موقف ہے کہ ہم الیکشن چاہتے ہیں مگر ایک ساتھ ہونا چاہئیے۔ہم ایک ہی بار عام انتخابات کروانا چاہتے ہیں تاکہ سیاسی کشیدگی اور معاشی ناہمواری کے امکان کو کم کیا جا سکے۔
جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے مذاکرات کے معاملے پر حکومت کو غیر سنجیدہ قراردے دیا۔۔ایک بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف مذاکرات کے معاملے پر یکسو ہے، حکومت کی جانب سے مذاکرات پر کوئی سنجیدگی نہیں۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف آئین اور سپریم کورٹ کی مقررکردہ حدود میں ہو سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ مذاکرات آئین سے باہر نہیں ہوسکتے، پنجاب، خیبر پختونخواہ میں انتخابات نہیں ہوتے تو یہ آئین کو سبوتاڑ کرنے کے مترادف ہے۔