بد قسمت یونیورسٹی روڈ ایک اور نوجوان کھا گیا۔

کراچی کی سڑکیں ایک بار پھر لہو سے رنگ گئیں… اور اس بار ایک اور خواب ادھورا رہ گیا۔


کراچی (طلعت شاہ) بے حسی، بدانتظامی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے اس نظام نے 25 سالہ حمزہ زیدی کی جان لے لی۔ نیو رضویہ سوسائٹی کے رہائشی اور سی اے کے طالبعلم حمزہ، جو اپنے روشن مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے تھے، ایک المناک ٹریفک حادثے کا شکار ہو گئے۔
حادثہ یونیورسٹی روڈ پر پیش آیا — وہی سڑک جو برسوں سے اپنی خستہ حالی، گڑھوں اور بدنظم ٹریفک کے باعث شہریوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، اور اب تو اس کا منظر موئن جو دڑو کے کھنڈرات سے کم نہیں لگتا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک کراچی کے شہری ان سڑکوں پر اپنی جانوں کی قیمت ادا کرتے رہیں گے؟
شدید زخمی حالت میں حمزہ کو فوری طور پر ڈاؤ اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ زندگی کی جنگ ہار گئے۔ ان کی موت صرف ایک فرد کا نقصان نہیں، بلکہ ایک پورے خاندان کی امیدوں کا چراغ گل ہو جانا ہے — والدین کا سہارا چھن گیا، دوستوں سے ایک مسکراتا چہرہ بچھڑ گیا۔
یہ کوئی عام حادثہ نہیں، بلکہ ایک مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ ایک ایسا المیہ جو ہر روز ہمارے شہر میں دہرایا جا رہا ہے۔ اب سوال صرف افسوس کا نہیں، بلکہ احتساب کا ہے۔
کراچی کے شہری اب خاموش نہیں رہیں گے۔ یونیورسٹی روڈ سمیت شہر کی تمام خستہ حال سڑکوں کی فوری مرمت اور ذمہ داران کے کڑے احتساب کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
حمزہ زیدی کی نماز جنازہ جمعرات، 30 اپریل کو نیو رضویہ سوسائٹی میں ادا کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں