چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی ہم منصب میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے مشترکہ سرحدوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان اور ایران نے رواں ماہ کے آغاز میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ سرحدی علاقوں میں امن و خوشحالی، دہشت گردی کے مؤثر مقابلے پر… دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی، اسمگلنگ اور عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کے الزامات کے باعث تعلقات میں وقتا فوقتا تناؤ بھی رہا ہے۔ ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل موسوی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں فریقین نے سرحدوں کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خاتمےکے عزم کا اظہار کیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کی رپورٹ کے مطابق جنرل موسوی نے کہا کہ ایران دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے سرحد پار دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کی نشاندہی کی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فیلڈ مارشل منیر نے بھی مشترکہ سرحدوں کے تحفظ کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ دونوں فریقین کو پاکستان-ایران سرحد کو دوستی، بھائی چارے اور اقتصادی ترقی کی سرحد میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ فیلڈ مارشل منیر نے پاکستانی قوم کے لیے جنرل موسوی کی ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملے کے متاثرین کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کے عزیز بھائیوں کو اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن مدد فراہم کرنے پر فخر محسوس کرے گا۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک مختلف سطحوں پر رابطے اور تعاون کر رہے ہیں، انہوں نے خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے لیے پاکستان کے مؤقف اور حمایت کو سراہا۔ رواں ماہ کے آغاز میں دورہِ پاکستان کے دوران ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا تھا کہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی ترقی امن، استحکام اور پر امن ماحول کے ذریعے ممکن ہوگی۔ انہوں نے سرحدی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کے خطرات کے پیش نظر سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے لیے امن سب سے ضروری ہے، دہشت گردی کی ہر شکل کے لیے زیرو ٹالرنس ہوگی، اگر ایران میں کوئی دہشت گردی کا شکار ہوتا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی پاکستان میں دہشت گردی کا نشانہ بنا ہو۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا تھا کہ خطے اور سینکڑوں کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد پر، امن اور ترقی کے لیے ہمیں دہشت گردی کے خلاف تعاون کرنا ہوگا اور اس لعنت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ اگرچہ دونوں رہنماؤں نے تعاون کو گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا، تاہم آپریشنل تفصیلات صدر پزیشکیان کی فیلڈ مارشل منیر کے ساتھ ملاقات میں زیرِ بحث آئیں۔
اہم خبریں
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
Recent Posts
- آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کا فطری حق ہے اور اپنے اس مؤقف پر پوری مضبوطی سے قائم ہیں: نائب اسپیکر علی نکزاد
- اسلام آباد کو شکست دے کر حیدرآباد کنگز مین نے فائنل کیلئے رسائی حاصل کر لی
- اسلام آباد کو شکست دے کر حیدرآباد کنگز مین نے فائنل کیلئے رسائی حاصل کر لی
- اب فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ایران کے خلاف بھرپور طاقت استعمال کی جائے یا مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے؛ ٹرمپ
- پاکستان کے محنت کش عزم و ہمت اور قومی وقار کی علامت ہیں، وزیراعظم کا عالمی دن پر خراجِ تحسین
ہمارا فیس بک پیج
خصوصی فیچرز
Archives
- May 2026
- April 2026
- March 2026
- February 2026
- January 2026
- December 2025
- November 2025
- October 2025
- September 2025
- August 2025
- July 2025
- June 2025
- May 2025
- April 2025
- March 2025
- February 2025
- January 2025
- December 2024
- November 2024
- October 2024
- September 2024
- August 2024
- July 2024
- June 2024
- May 2024
- April 2024
- March 2024
- February 2024
- January 2024
- December 2023
- November 2023
- October 2023
- September 2023
- August 2023
- July 2023
- June 2023
- May 2023
- April 2023
- March 2023
- February 2023
- January 2023
- December 2022
- November 2022
- October 2022
- September 2022
- August 2022
- November 2016
- May 2016
- November 2015
- June 2015






