کراچی (طلعت شاہ – روحیل صدیقی) ضلع وسطی کراچی کے علاقے شادمان، سیکٹر 14-بی میں غیرقانونی تعمیرات کا معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ پلاٹ نمبر ST-21 شادمان نمبر 2 سیکٹر 14 بی کراون پلازہ پر واقع یو بی ایل (UBL) بینک کی عمارت مبینہ طور پر این او سی کے بغیر تیزی سے تعمیر کی جا رہی ہے، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے بعض افسران کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے شروع کی گئی اینٹی کرپشن مہمات عملی طور پر بے اثر ثابت ہو رہی ہیں۔ متعدد تحقیقاتی ادارے اس غیرقانونی تعمیر کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق بعض افسران، جو پہلے ہی بدعنوانی کے الزامات میں سرٹیفائیڈ اور اینٹی کرپشن محکموں کی رپورٹس میں نامزد ہیں، ذاتی مفادات کے لیے غیرقانونی تعمیرات کی حمایت کر رہے ہیں۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ اینٹی کرپشن محکموں کے پاس ان افسران کے خلاف دستاویزی شواہد موجود ہیں، تاہم اس کے باوجود کارروائی نہ ہونا ایک خفیہ اور منظم غیرقانونی مافیا نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے، جو بااثر عناصر کے تعاون سے شہر بھر میں غیرقانونی تعمیرات کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ تعمیرات سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس (SBCO) 1979 اور کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز (KB&TPR) کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ SBCO 1979 کے تحت کسی بھی تجارتی عمارت کی تعمیر سے قبل منظور شدہ بلڈنگ پلان، این او سی، اور باقاعدہ اجازت نامہ لازمی ہے، جو اس منصوبے میں موجود نہیں۔ KB&TPR کے قواعد کے مطابق زمین کے استعمال (Land Use)، فلور ایریا ریشو (FAR)، پارکنگ، سیفٹی اور فائر ریگولیشنز کی پابندی ضروری ہوتی ہے، تاہم یو بی ایل بینک کی اس تعمیر میں ان ضوابط کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ بغیر منظوری تعمیرات کو غیرقانونی تصور کیا جاتا ہے، جس پر کام فوری طور پر بند کر کے انہدام یا قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، مگر یہاں ایسا نہیں ہو رہا۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہر میں ایک خفیہ اور منظم غیرقانونی مافیا نیٹ ورک سرگرم ہے، جو ایس بی سی اے کے کرپٹ عناصر کے تعاون سے ایسی تعمیرات کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک کے باعث حکومت کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا ہے جبکہ عوام اپنی بنیادی ضروریات جیسے شہری سہولیات، انفراسٹرکچر، ٹریفک نظام اور حفاظتی انتظامات سے محروم ہو رہے ہیں۔
علاقہ مکینوں، سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، غیرقانونی تعمیرات کو فوری طور پر روکا جائے، اور SBCO 1979 و KB&TPR کی خلاف ورزی میں ملوث ایس بی سی اے افسران، متعلقہ بلڈر اور سہولت کاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر قانون کی عملداری کو یقینی نہ بنایا گیا تو کراچی میں اینٹی کرپشن اور احتساب کے تمام دعوے محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں گے۔






