حکومت نے عمران خان کو پمز اسپتال لے جائے جانے کی تصدیق کردی

حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو گزشتہ ہفتے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال منتقل کیے جانے کی تصدیق کردی گئی ہے۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے جمعرات کو عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آنکھوں کے ماہرین… عطاء تارڑ کے مطابق آنکھوں کے ماہرین نے پمز اسپتال میں عمران خان کا طبی معائنہ کیا، 20 منٹ کے معائنے کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ عطاء تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بالکل ٹھیک ہیں، تمام قیدیوں کو صحت کی سہولیات میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جس بھی قیدی کو ریفر کرتے ہیں، ہم اسے اسپتال بھیجتے ہیں۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کو ایک انتہائی حساس آنکھ کا انفیکشن لاحق ہے، جس کا اگر بروقت اور مناسب علاج نہ کیا گیا تو مستقل بینائی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پارٹی کے مطابق سابق وزیراعظم کی دائیں آنکھ کی ریٹینل وین میں رکاوٹ (Central Retinal Vein Occlusion) پیدا ہو گئی ہے، جس کے باعث بینائی کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے حکومت اور جیل حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جیل انتظامیہ علاج کو جیل کے اندر ہی کروانے پر اصرار کر رہی ہے، جبکہ ڈاکٹروں کے مطابق جیل کی حدود میں یہ علاج ممکن نہیں ہے۔ پارٹی نے عدالت سے بھی اپیل کی تھی کہ عمران خان کے طبی معائنے کی اجازت دی جائے، تاہم یہ درخواست اگست 2025 سے زیر التوا ہے۔ دوسری جانب، عمران خان کی بہنوں نے پی ٹی آئی کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی تھی اور کہا تھا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ علیمہ خان نے بتایا تھا کہ وہ گزشتہ تین ماہ سے اپنے بھائی سے ملاقات نہیں کر سکیں، اور انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ خبر میڈیا تک کیسے پہنچی۔ عظمیٰ خان کے مطابق انہوں نے دو دسمبر کو عمران خان سے ملاقات کی، اور اس دوران عمران خان نے اپنی آنکھوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ نورین خان نے بھی کہا کہ اگر یہ خبر درست بھی ہے تو اسے فیملی کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے تھا۔ خیال رہے کہ ڈان اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں پمز اسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کو ہفتے کی رات سخت سیکیورٹی میں اسپتال لایا گیا اور وہاں ان کا معائنہ مکمل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ عمل رات کے دیر وقت تک جاری رہا اور صبح کے وقت انہیں واپس جیل منتقل کیا گیا۔ پی ٹی آئی قیادت نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اسے ”بدسلوکی“ قرار دیا، ساتھ ہی حکومت اور جیل حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر عمران خان تک رسائی دی جائے۔ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس کی سزا کاٹ رہے ہیں اور مئی 2023 کے احتجاجات سے متعلق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت بھی زیر سماعت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز سینیٹ اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے علاج اور دیکھ بھال میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔