اگر کسی فرد کو کینسر سامنا ہو تو اس سے مکمل صحتیابی کا امکان تو ہوتا ہے مگر اس صورت میں اگر اس کی تشخیص جلد ہوجائے، جبکہ بیماری کا علاج بہت تکلیف دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ مگر اب تک طبی ماہرین یہ تعین نہیں کرسکے کہ کس فرد میں کینسر کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم کینسر کا خطرہ بڑھانے والے چند عناصر کی ضرور نشاندہی ہو چکی ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ کس فرد میں اس بیماری کا خطرہ زیادہ ہے۔ اس حوالے سے اب تک جو کچھ سائنسدان جان چکے ہیں وہ تفصیلات درج ذیل ہیں۔دائمی ورمورم ہمارے جسم کا ایک عام ردعمل ہوتا ہے جو مختلف ٹشوز کی انجری پر متحرک ہوتا ہے۔ ورم کے باعث ایسے کیمیکلز کا اخراج ہوتا ہے جو متاثرہ ٹشوز تک پہنچتے ہیں اور خون کے سفید خلیات ایسا مواد تیار کرتے ہیں جو خلیات کی نشوونما اور تقسیم کا کام کرتے ہیں، جس سے انجری ٹھیک کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جب متاثرہ حصہ ٹھیک ہو جاتا ہے تو یہ عمل تھم جاتا ہے۔مگر دائمی ورم کے دوران یہ عمل ہر وقت جاری رہتا ہے اور اس کے نتیجے میں مدافعتی نظام بہت زیادہ متحرک ہو جاتا ہے جس سے ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے اور کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔ غذائی عاداتمتعدد تحقیقی رپورٹس میں غذائی عادات اور کینسر کے خطرے میں اضافے یا کمی کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ابھی ٹھوس طور پر تو ثابت نہیں ہو سکا کہ کونسی غذا کینسر کا شکار یا اس سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے مگر یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال ممکنہ طور پر کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ موجودہ عہد میں ان غذاؤں کا استعمال بہت زیادہ ہو رہا ہے جبکہ سرخ گوشت کے زیادہ استعمال کو بھی کینسر سے منسلک کیا جاتا ہے۔ الکحلالکحل کے استعمال سے منہ، حلق، غذائی نالی، جگر اور بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس کا جتنا زیادہ استعمال کیا جائے گا، کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔ موٹاپاجسمانی وزن میں اضافے سے کینسر کی متعدد اقسام کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کینسر کی ان اقسام میں بریسٹ، آنتوں، غذائی نالی، گردے، لبلبے اور دیگر قابل ذکر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین کی وجہ سے جسمانی وزن کو صحت مند سطح پر رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ کینسر سمیت امراض قلب، ذیابیطس ٹائپ 2 اور ہائی بلڈ پریشر سے تحفظ مل سکے۔ ہارمونزہارمونز بھی کینسر کا خطرہ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسٹروجن وہ ہارمون ہے جس کی مقدار خواتین میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کا توازن بگڑنے سے بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔






