دودھ کو عموماً قدرت کی نعمت سمجھا جاتا ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگ سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈا دودھ شوق سے استعمال کرتے ہیں، تاہم ماہرینِ صحت نے دودھ کے استعمال سے متعلق ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ دودھ میں پروٹین اور کیلشیم کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، جبکہ یہ وٹامن اے، بی ٹو اور بی 12 سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ بہت سے افراد سونے سے قبل دودھ پینے کو عادت بنائے ہوئے ہیں، کیونکہ عام تاثر یہی ہے کہ گرم دودھ نیند کو بہتر بناتا ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض افراد کو دودھ پینے کے فوراً بعد مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سب سے عام مسئلہ بدہضمی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ لیکٹوس عدم برداشت (Lactose Intolerance) ہے، کیونکہ لیکٹوس عموماً دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات میں پائی جاتی ہے۔ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے معدے کے ماہر ڈاکٹر پلائی ایم مینکم نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا کہ 30 سال کی عمر کے بعد انسانی جسم میں لیکٹوس کو ہضم کرنے والے انزائم کی پیداوار آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے، جس کے باعث جسم دودھ کو مؤثر طریقے سے ہضم نہیں کر پاتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لیکٹوس کو ہضم کرنے والا انزائم ہماری چھوٹی آنت میں پایا جاتا ہے، جو دودھ میں موجود لیکٹوس کو گلوکوز اور گیلیکٹوز جیسے چھوٹے مالیکیولز میں توڑ دیتا ہے تاکہ یہ آسانی سے جذب ہو سکیں۔ لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ اس انزائم کی کمی کے باعث دودھ براہِ راست بڑی آنت میں پہنچ جاتا ہے، جہاں موجود بیکٹیریا بدہضمی، گیس اور پیٹ کے دیگر مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ ڈاکٹر پلائی ایم مینکم نے مزید خبردار کیا کہ رات کے وقت یا سونے سے پہلے دودھ پینا انسولین کی سطح میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے، کیونکہ دودھ میں موجود کاربوہائیڈریٹس جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی (باڈی کلاک) کو متاثر کرتے ہیں، جس سے انسولین کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے افراد جنہیں دودھ پینے کے بعد پیٹ کے مسائل یا بلڈ شوگر میں اتار چڑھاؤ محسوس ہو، انہیں دودھ کے استعمال کے حوالے سے احتیاط برتنی چاہیے اور ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔






