وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نماز جمعہ کے دوران امام بارگاہ میں دھماکا کرنے والے خود کش بمبار کی شناخت ہوگئی ہے جب کہ سیکورٹی فورسز نے خود کش دھماکے کے شواہد حاصل کر لیے ہیں اور امام بارگاہ میں دھماکے کے وقت کی سی سی ٹی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی مسجد میں دھماکے کے خود کُش بمبار کی شناخت کرلی گئی، خود کُش بمبار نے افغانستان سے دہشت گردانہ کاروائیوں کی تربیت حاصل کی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ترلائی کی مسجد میں خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید ہو چکے ہیں جب کہ متعدد افراد زخمی ہیں، خودکش بمبار متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے اور کچھ عرصہ پہلے افغانستان سے آیا تھا۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، پاکستان میں ہر دہشت گردانہ کارروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے۔ حکومتی ذرائع نے مزید بتایا کہ پوری قوم بزدلانہ کارروائیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے، مساجد اور معصوم شہریوں پر اس طرح کے بزدلانہ حملے پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ سیکورٹی فورسز نے اسلام آباد دھماکے کے شواہد حاصل کرلیے دوسری جانب سیکورٹی فورسز نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی کے امام بارگاہ میں خود کش دھماکے کے شواہد حاصل کرلیے ہیں جب کہ امام بارگاہ میں دھماکے کے وقت کی سی سی ٹی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق امام بارگاہ میں دھماکا ایک بج کر 38 منٹ پر ہوا، امام بارگاہ کے روٹ اور دھماکے کے وقت بھگدڑ دیکھی جا سکتی ہے اور فوٹیج میں دھماکے کی آواز سنتے ہی شہریوں کو بھاگتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور کو بھاگ کر امام بارگاہ میں داخل ہوتے بھی دیکھا جا سکتا ہے جب کہ دھماکے کے بعد باہر شہریوں کو بھاگتے ہوئے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید اور 160 سے زائد ہوگئے۔ پولیس کے مطابق نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور نے امام بارگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے وہاں موجود افراد نے روکا جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس حوالے سے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے سے قبل فائرنگ ہوئی تھی جس کے فوراً بعد دھماکا ہوگیا۔ دھماکے کے بعد پولیس اور فوج کے دستوں اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، تمام زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا، تمام اسپتالوں میں ہنگامی صورتِ حال نافذ کر دی گئی۔






