ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ وزن کم کرنے والے انجیکشن جگر پر سوزش اور زخم کو کم کرتے ہوئے عضو کی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں، چاہے خاطر خواہ وزن کم نہ بھی ہو۔ سِینائی ہیلتھ کے محققین کے علم میں یہ بات آئی کہ سیماگلوٹائیڈ جو مقبول وزن کم کرنے والی ادویات میں استعمال ہونے والا فعال جزو ہے اور آنتوں کے ہارمون جی ایل پی-1 کی نقل کرتا ہے، جگر کے ایک خاص قسم کے خلیے پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سیماگلوٹائڈ (جو ویگووی اور اوزیمپک کے ناموں سے فروخت ہوتی ہے) اس وقت وزن کم کرنے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ تاہم، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ میٹابولک ڈس فنکشن سے وابستہ اسٹیٹو ہیپاٹائٹس (MASH) یعنی جگر میں چکنائی زیادہ ہونے سے پیدا ہونے والی ایک طویل مدتی بیماری کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ فیٹی لیور بیماری کی یہ شدید قسم (جو برطانیہ میں تقریباً 30 لاکھ افراد کو متاثر کرتی ہے) عام طور پر وزن کم کرنے سے بہتر ہو جاتی ہے۔ لیکن محققین کے مطابق وزن کم کرنے والے یہ انجیکشن جگر کو ایسے طریقوں سے بھی فائدہ پہنچاتے ہیں جو صرف وزن کم کرنے سے ممکن نہیں ہوتے۔






