توند کی چربی کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ نیا طریقہ دریافت

عمر میں اضافے کے ساتھ جسم میں چربی کی مقدار بڑھنے لگتی ہے خاص طور پیٹ اور کمر کے گرد، جس سے توند نکلنے لگتی ہے۔ پیٹ اور کمر کے گرد جمع ہونے والی چربی کو طبی زبان میں ورسیکل فیٹ کہا جاتا ہے۔ توند کی چربی جسمانی چربی کی سب سے خطرناک قسم ہوتی ہے کیونکہ یہ بہت اہم اعضا کو ڈھانپ لیتی ہے۔ اس چربی کے نتیجے میں امراض قلب، ذیابیطس اور دیگر سنگین طبی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جسم کے دیگر حصوں میں موجود چربی جِلد کے نیچے ہوتی ہے جو کہ نقصان دہ نہیں ہوتی بلکہ مجموعی صحت کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اب ماہرین نے ایسے ہارمونز کو دریافت کیا ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں چربی ذخیرہ کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ محققین نے بتایا کہ عمر میں اضافے کے ساتھ مردوں اور خواتین میں نقصان دہ چربی کا ذخیرہ پیٹ اور کمر کے گرد ہونے لگتا ہے اور اس کا براہ راست تعلق مخصوص ہارمونز سے ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں جائزہ لیا گیا تھا کہ ایک ہارمون testosterone پر مبنی جیل سے خواتین کے کولہوں کی ہڈی کے فریکچر کو تھیک کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کولہوں کی ہڈی کا فریکچر معمر خواتین میں ایک اہم طبی مسئلہ ہے اور خواتین میں یہ خطرہ مردوں سے 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں 66 خواتین کو شامل کیا گیا تھا جن کی عمریں 65 سال یا اس سے زائد تھی اور کولہوں کی ہڈی کے فریکچر کا شکار ہوچکی تھیں۔ جیل کے استعمال سے قبل ان کے جسموں میں چربی کے ذخیرے کے لیے اسکین کیا گیا اور پھر انہیں ورزش کے ایک پروگرام کا حصہ بنایا گیا جبکہ ایک گروپ کو صرف جیل استعمال کرایا گیا۔ 6 ماہ بعد دریافت ہوا کہ دونوں گروپس میں شامل خواتین کے جسموں میں چربی کی سطح لگ بھگ ایک جیسی تھی مگر چربی کی تقسیم کے عمل میں واضح فرق دیکھنے میں آیا۔ جن خواتین میں جیل استعمال کیا گیا تھا ان کے پیٹ اور کمر کے گرد چربی کی سطح میں نمایاں کمی آئی تھی جبکہ دوسرے گروپ میں شامل خواتین میں توند کی چربی بڑھ گئی۔ محققین کے مطابق نتائج سے پیٹ اور کمر کی چربی کی روک تھام کے حوالے سے نئی حکمت عملی ترتیب دینے میں مدد مل سکے گی۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل Obesity Pillars میں شائع ہوئے۔

کیٹاگری میں : صحت