ایران اس وقت 2 عالمی دہشت گرد افواج کیخلاف تاریخی مزاحمت کر رہا ہے؛ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سابق صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر ایک تحریری پیغام جاری کیا ہے۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام، ریاستی اداروں اور عوام پر پہلے سے کہیں زیادہ بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی… ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اپنے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے ابراہیم رئیسی کو عوامی خدمت اور مزاحمتی سیاست کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت کو اتحاد، معاشی مشکلات کے حل اور قومی استحکام پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ رہبراعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایران اس وقت دو عالمی دہشت گرد افواج یعنی امریکا اور اسرائیل کے خلاف تن تنہا تاریخی مزاحمت کر رہا ہے۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام، ریاستی اداروں اور عوام پر پہلے سے کہیں زیادہ بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے آخری سانس تک لڑیں گے اور دنیا میں دہشت گردی پھیلانے والے شرانگیز ممالک کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے۔ یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت ہلاکت کے بعد مارچ میں ایران کے نئے سپریم لیڈر بنے تھے لیکن اب تک منظرعام پر نہیں آئے ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے تمام پیغامات سرکاری نیوز چینل پر پڑھ کر سنائے جاتے ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ نئے سپریم لیڈر شاید زخمی یا بیمار ہیں۔ امریکا بھی دعویٰ کرچکا ہے کہ وہ اسرائیلی حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔ اب سے چند روز قبل ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے کہا تھا کہ انھوں نے نئے سپریم لیڈر سے ملاقات کی ہے اور وہ خیریت سے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی 19 مئی 2024 کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہ اور دیگر 7 اعلیٰ حکام کے ہمراہ جاں بحق ہوگئے تھے۔ ہیلی کاپٹر ایران کے صوبے مشرقی آذربائیجان کے پہاڑی علاقے میں اس وقت گر کر تباہ ہوا جب وہ ایک ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپس آ رہا تھا۔ تحقیقات کے مطابق حادثہ خراب موسم اور شدید دھند کی وجہ سے پیش آیا اور اس میں کسی سازش یا حملے کے شواہد نہیں ملے تاہم یہ حیران کن تھا کہ صرف ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا قافلے میں شامل دیگر ہیلی کاپٹرز بحفاظت پہنچ گئے تھے۔