انتقام سے غرض نہیں لیکن میرے ساتھ جو ہوا اس کا حساب ہونا چاہیے: نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ قوم کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو معاف نہیں کرسکتا، انتقام سے غرض نہیں ہے لیکن میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا حساب ہونا چاہیے۔ لاہور میں پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے خلاف مقدمات میں جان ہی نہیں تھی، ہماری حکومت ختم کرنےکےلیےجعلی مقدمات بنائےگئے۔ نواز شریف نے کہا کہ جعلی مقدمات کا کھوکھلا پن آپ سب کو معلوم ہوگیا ہوگا، جب پاناما میں کچھ نہ ملا تو اقامہ نکال لیا، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دیا گیا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو میرے بے قصور ہونے کا یقین تھا، ایسا فیصلہ سنایا گیا جو دنیا میں مذاق بنا، جو دکھ ملے کیا ان کا کوئی مداوا ہے؟ انتقام لینا نہیں چاہتا لیکن احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو سب سے بڑی عدالت بنے گی، عوامی جے آئی ٹی بنے گی، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈالر کو چار سال باندھ کر رکھا، ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا، کیا ججز کبھی سسلین مافیا، گاڈ فادر جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں، میری دشمنی میں کیے گئے اقدام نے عوام کو نقصان پہنچایا۔ نواز شریف نے کہا کہ سازشی عناصر روز شام میں دکانداری چمکاتے تھے، ہمارے وقت میں آٹا، چینی، گوشت اور سب اشیا سستی تھیں، میں نے کیا بگاڑا تھا اس بینچ کا جس نے مجھے سسیلین مافیا کہا، مجھے بطور فرد سزا ملی، اصل سزا 25 کروڑ عوام کو ملی۔