شیخ رشید کا دعویٰ، اسلام آباد پولیس کا انکار، آخر ماجرا کیا ہے

 عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے گزشتہ شب اُن کی رہائش گاہ پر گرفتار کے لیے چھاپہ مارا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ پولیس نے ہفتے کی رات ساڑھے بارہ بجے اسلام آباد میں میری رہائش گاہ پر گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا، جبکہ اُس وقت میں راولپنڈی میں قائم اپنے گھر لال حویلی میں تھا۔

آرمی چیف کاازخود ایکسٹنیشن نہ لینےکا فیصلہ خوش آئند ہےگرے لسٹ سے نکلنے کاکریڈٹ عمران خان کی حکومت اور سارےاداروں کوجاتا ہے۔الیکشن کمیشن کی نااہلی کافیصلہ ہائیکورٹ سپریم کورٹ کی ایک پیشی کی مارہے یہ مبہم ہے سقم ہےاور غیرآئینی ہے۔جیلوں سے بھاگنے والے عمران کو جیل میں ڈالناچاہتےہیں
— Sheikh Rashid Ahmed (@ShkhRasheed) October 22, 2022
 
ترجمان پولیس نے کہا کہ شیخ رشید کا بیان حقائق پر مبنی نہیں ہے، اسلام آباد پولیس نے گزشتہ رات راولپنڈی یا دارالحکومت میں کسی رہنما یا سیاسی کارکن کے گھر پر چھاپہ نہیں مارا اور نہ ہی مذکورہ سیاسی رہنما کسی احتجاج میں نظر آئے۔
 

شیخ رشید احمد صاحب کا بیان حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ اسلام آباد پولیس نے گزشتہ رات اسلام آباد یا راولپنڈی میں کسی سیاسی راہنما یا ورکر کے گھر پر چھاپہ نہیں مارا۔ نہ ہی یہ سیاسی راہنما کسی سیاسی احتجاج کا حصّہ دکھائی دیئے۔1/2
— Islamabad Police (@ICT_Police) October 22, 2022
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے شیخ رشید کے گھر پر چھاپے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے بارے میں غلط خبریں پھیلانے سے گریز کیا جائے، بے بنیاد اور من گھڑت خبریں پھیلانے والوں کے خلاف پولیس قانونی کارروائی کا حق رکھتی ہے۔