برطانیہ کے پہلے ایشیائی نژاد وزیراعظم رشی سوناک ہوں گئے

بھارتی نژاد برطانوی سیاستدان رشی سوناک کنزرویٹیو پارٹی کے سربراہ منتخب ہوگئے، وہ پہلے ایشیائی نژاد برطانوی وزیراعظم ہوں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رشی سوناک کی حریف پینی مورڈانٹ پارٹی سربراہ اور وزیراعظم بننے کی دوڑ کیلئے ضروری کم از کم 100 کنزرویٹو ایم پیز کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہوگئیں۔
برطانوی وزیراعظم کے مقابلے کیلئے ضروری 100 ایم پیز کی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد پینی مورڈانٹ نے رشی سوناک کی حمایت کا اعلان کردیا۔
رپورٹ کے مطابق کنزوویٹو ایم پی گراہم بریڈی نے کہا کہ پینی مورڈانٹ کی جانب سے مطلوبہ ممبران کی حمایت کے حصول میں ناکامی کے بعد رشی سوناک کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ منتخب ہوگئے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق برطانوی وزیراعظم لِز ٹرس کے استعفے کے بعد شروع ہونیوالے مقابلے کیلئے امیدواروں کو پیر کو دوپہر 2 بجے تک کم از کم 100 کنزرویٹو ایم پیز کی حمایت حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔
اتوار کو اپنی امیدواری کا اعلان کرنے سے قبل سوناک جمعہ کی رات تک 150 اراکین کی حمایت حاصل کرچکے تھے۔
اس سے قبل قبل سابق وزیراعظم بورس جانس، رشی سوناک کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے، جس کے بعد پینی مورڈانٹ ہی دوڑ میں واحد امیدوار رہ گئی تھیں۔
واضح رہے کہ کنزرویٹو ایم پیز نے صرف دو ماہ قبل ہونیوالے انتخاب میں رشی سوناک کے بجائے لِز ٹرس کو منتخب کیا تھا، تاہم لز ٹرس صرف 44 روز ہی اس عہدے پر برقرار رہ سکیں۔
رشی سوناک نے فوری طور پر بورس جانسن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ٹویٹ کی ہے کہ مجھے واقعی امید ہے کہ وہ اندرون اور بیرون ملک عوامی زندگی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق رشی سونک نے برطانیہ کے سیاسی و عوامی حلقوں میں اس وقت بڑی توجہ حاصل کی جب وہ سابق وزیراعظم بورس جانسن کے وزیر خزانہ بنے، اس وقت ان کی عمر 39 برس تھی۔
رشی سوناک نے برطانیہ میں کرونا وباء سے نمٹنے کیلئے کامیاب اسکیم متعارف کرائی تھی۔ سرمایہ کاری کی کمپنی گولڈمین سیچس کے سابق تجزیہ کار رشی سوناک برطانیہ کے پہلے ایشیائی نژاد وزیراعظم ہوں گے۔
رشی سوناک کا خاندان 1960ء کی دہائی میں اس وقت برطانیہ منتقل ہوا تھا، آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد رشی نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، انہوں نے اپنی ساتھی طالبہ اکشتا مورتی سے شادی کرلی تھی۔