پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مونس الہٰی کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کے مطالبے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور میں وی لاگرز سے ملاقات میں مونس الہٰی نے کہا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ اور عمران خان میں تناؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش ضرور کی تھی، سیاسی صورتحال میں الیکشن ہی واحد حل ہے، پرویز الہٰی کو گرفتار کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ عمران خان ہمارے محسن ہیں اور ہمارا خاندان احسان فراموش نہیں، ایسا عمل نہیں کیا جس سے عمران خان کی سیاست اورعزت پر فرق آئے، عمران خان جو کہیں گے وہ ہوگا، یہ اٹل ہیں۔
مونس الہٰی نے کہا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی کا رابطہ بحال ہوا ہے، چوہدری شجاعت حسین سے اس دن سے نہیں ملا جب عمران خان سے ملاقات کے لیے گیا تھا، پرویز الہٰی اورحسین الہٰی مجھ سے مشاورت کرکےفیصلے کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ پرویز الہٰی عمران خان کے ساتھ دیر پاچلنے کے خواہاں ہیں، نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کے جلسے کے بعد والد پرویز ا لہٰی کو تبدیل پایا، عمران خان اور جنرل باجوہ محسن ہیں، ہم احسان فراموش نہیں، شاید کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ق لیگ پی ٹی آئی کے ساتھ رہے، مستقبل میں پی ٹی آئی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔






