وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومتی اتحاد تحریک انصاف سے غیر مشروط مذاکرات کیلئے تیار ہے، صدر مملکت عارف علوی اس حوالے سے کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران مجھےکبھی مذاکرات کی دعوت نہیں دے گا اور نہ دعوت دی ہے، پی ڈی ایم غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے، عارف علوی کردار ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس سے پہلے یہ کوشش پرویز خٹک، اسد عمر اور فواد چوہدری نے کی لیکن ان کی بات عمران خان نے نہیں مانی، عارف علوی بھی عمران کے سامنے کیا حیثیت رکھتے ہیں یہ نہیں معلوم، وہ کوشش کررہے ہیں اگر کوئی بات ہوتی ہے تو معیشت پر بات ہونی چاہیے۔
وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ (ن) لیگ نے نوازشریف سے درخواست کی ہے کہ انتخابی مہم میں موجود ہوں، نوازشریف نے پارٹی کی درخواست کو قبول کرلیا ہے، ہم بھرپور طریقے سے الیکشن لڑیں گے، ہمارے حالات برے نہیں ہونگے ہم عوام میں جائیں گے تو ہر چیز لوگوں کے سامنے رکھیں گے، بھرپور الیکشن لڑیں گے، پنجاب میں اس مرتبہ اکثریت حاصل کرینگے اور حکومت بنائیں گے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ فوج منظم ادارہ ہے وہاں کسی بندے کی پالیسی نہیں چلتی کہ باجوہ صاحب کی یا عاصم منیر کی پالیسی ہوگی، فوج میں پالیسی ادارے کی ہوتی ہے، وہ بھلے درست یا نہ ہو پالیسی ادارے کی ہوتی ہے، جو پالیسی پہلےتھی وہ ادارے کی تھی جو مداخلت ہوتی رہی ہے اس میں بھی ادارے کی پالیسی کے تحت ہوتی رہی ہے، جب اے پولیٹیکل رہنے کا فیصلہ ہوا تو یہ بھی ادارے کا فیصلہ ہے، یہ کسی چیف یا فردواحد کا نہیں، یہ فیصلہ ادارے کا ہے، یہ میں نہیں کہہ رہا یہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے قوم کے سامنے بات کی اور کمٹمنٹ کی، اعتماد ہے اس لیول کی کمٹمنٹ کو ادارہ نبھائے گا۔
وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے نواز شریف سے درخواست کی ہے کہ انتخابی مہم میں موجود ہوں، ن لیگ کی اس درخواست کو نوازشریف نے قبول کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ کر رہا ہے، یہ بار بار ڈیفالٹ کا پروپیگنڈا اس لیے کر رہے ہیں تاکہ ملک واقعی ڈیفالٹ کر جائے، الیکشن ہوا تو پنجاب میں اس بار ہم اکثریت کے ساتھ حکومت بنائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شوکت ترین کی آڈیو پکڑی گئی تھی جس میں وہ آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی بات کر رہے تھے، ان کے پاس اقتدار نہیں تو یہ ملک کی معیشت تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔






