پتہ نکالنا آسان، مگر اس کے بعد ممکنہ پیچیدگیاں جان کر ہوش اُڑ جائیں گے

آج کل پتے میں پتھری (Gallstones) کا مسئلہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ اکثر ڈاکٹروں کی جانب سے گال بلیڈر نکالنے کی سرجری تجویز کی جاتی ہے۔ یہ سرجری بظاہر آسان سمجھی جاتی ہے اور زیادہ تر مریض 24 گھنٹوں کے اندر اسپتال سے فارغ ہو جاتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کے کچھ اثرات جسم پر ظاہر… پتہ جگر کے نیچے دائیں جانب موجود ایک چھوٹا سا عضو ہے، جس کی شکل امرود سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی کام جگر میں بننے والے صفرا (Bile) کو ذخیرہ کرنا ہے۔ یہی صفرا چکنائی والی غذا اور بعض اہم وٹامنز (اے، ڈی، ای اورکے) کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب انسان کھانا کھاتا ہے تو جسم پتے کو صفرا خارج کرنے کا سگنل دیتا ہے۔ جب صفرا گاڑھا ہو کر ٹھوس شکل اختیار کر لیتا ہے تو پتے میں پتھری بن جاتی ہے۔ اکثر افراد میں یہ پتھری علامات کے بغیر ہی موجود رہتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ پتہ اور چھوٹی آنت کے درمیان موجود نالی میں پھنس جاتی ہے، جس سے شدید درد، متلی، قے اور سینے یا شانوں کے درمیان تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ اگر اس حالت کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یرقان، بخار، پیشاب کا رنگ گہرا ہونا، سردی لگنا اور یہاں تک کہ لبلبے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پتے میں بار بار پتھری بنے یا ورم پیدا ہو جائے تو ڈاکٹر اسے نکال دینے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ یہ عضو انسانی جسم کے لیے لازمی نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر عام طور پر تشخیص کے لیے جسمانی معائنہ، خون کے ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ جیسے ٹیسٹ کرواتے ہیں۔ اگر پتہ پر شدید ورم ہو تو فوری آپریشن تجویز کیا جاتا ہے۔ پتہ نکالنے کے بعد جسم صفرا کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، جس کے بعد صفرا براہ راست جگر سے آنتوں میں پہنچتا ہے۔ اس وجہ سے کچھ افراد کو ابتدائی چند ہفتوں یا مہینوں تک درج ذیل مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے.   اسہال، گیس اور پیٹ پھولنا، چکنائی والی غذا ہضم کرنے میں دشواری، متلی یا ہلکی کمزوری ہو سکتی ہے۔ تاہم، زیادہ تر مریضوں میں یہ علامات وقت کے ساتھ خود بخود بہتر ہو جاتی ہیں کیونکہ جسم نئی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ آپریشن کے بعد شروع شروع میں گلے میں خراش، درد، متلی یا الٹی کی شکایت ہو سکتی ہے۔ عام طور پر مکمل صحت یابی میں ایک سے تین ہفتے لگتے ہیں، جس کے بعد مریض اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ آتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگرچہ پتے کا کردار دیگر اعضاء کے مقابلے میں کم اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے نکالے جانے کے بعد غذا میں احتیاط اور طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلیاں اپنانا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ جسم صفرا کے براہ راست بہاؤ کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے اور نظامِ ہضم معمول پر آ جاتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت